بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ایک حدیث سے استدلال پر اعتراض کا جواب
سوال
ایک شخص کہتا ہے کہ "من تشبه بقوم فهو منهم" والی حدیث مکمل پڑھنے سے واردات کا اندازہ ہوگا کہ آپﷺجب جنگی اصول بیان فرمارہے تھےتو اس دوران یہ حدیث ارشاد فرمائی اور ہم اس کو شلوار اور پینٹ یعنی کتاب اللباس پر لاگو کررہے ہیں،اس سے امام ابوداؤد کی ذہنی اپروچ کا اندازہ ہوتا ہے۔اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ اگر ہم کسی قبیلے پر حملہ آور ہوں،اور اس قبیلے میں ہمارے حلیف قبیلے کا کوئی فرد موجود ہے اور حملے میں مارا جاتا ہےتو ہم نہ اس کی دیت دیں گےاور نہ قصاص،اس لئے کہ وہ ہمارے دشمن قبیلے میں کیاکررہا تھا؟جو دشمن کے ساتھ ہوگا،وہ دشمن ہی سمجھا جائے گا؟
جواب
شریعت مطہرہ مسلم وغیر مسلم کے درمیان ایک خاص امتیاز چاہتی ہےتاکہ مسلم اپنی وضع قطع،رہن سہن اور چال ڈھال میں غیر مسلم سے ممتاز ہو۔لہذا ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی کام میں غیرمسلموں کے ساتھ اس طرح مشابہت اختیار نہ کرےجس سے یہ بھی غیر مسلم معلوم ہورہا ہو۔قرآن وسنت میں غیر مسلم کی مشابہت سے بچنے کی تاکید آئی ہے چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗترجمہ:ایمان والو!آپ ﷺ سے مخاطب ہوکر"راعنا"نہ کہا کرو،اور "انظرنا"کہا کرو اور سنا کرو۔اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر رحمہ اللہ نے تشبہ بالغیر کی حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ اس آیت میں کفار کے اقوال ،افعال،لباس،اعیاد اور عبادات وغیرہ میں مشابہت سے منع فرمایا ہے۔اسی طرح آپ ﷺنے موقع بہ موقع صحابہ کرام کو غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایاہےچنانچہ جامع ترمذی میں روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا: ليس منا من تشبه بغيرنا، لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى " ترجمہ:جو شخص کسی اور امت کےساتھ مشابہت اختیار کرے تو وہ ہم میں سے نہیں، تم یہود ونصاری کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو۔ایک دوسری حدیث میں آپﷺنے فرمایا "ہم میں اور مشرکین کے درمیان فرق کی (علامت)ٹوپیوں پر عمامہ کاباندھنا ہے۔اسی طرح صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:"جزوا الشوارب، وأرخوا اللحى، خالفوا المجوس"ترجمہ: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔ آپ ﷺ کی ان تعلیمات کی بنا پر حضرات صحابہ کرام غیر مسلموں کی مشابہت سے اپنے آپ کو دور رکھنےپر خاص توجہ دیتے تھےچنانچہ ابوعثمان النہدی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ہم عتبۃ بن فرقد کے ساتھ آذر بیجان میں تھے کہ ہمارے پاس حضرت عمرؓ نے ایک خط بھیجاجس میں ایک ہدایت یہ تھی کہ اپنے آپ کو اہل شرک وکفر کے لباس اور ہیئت سے دور رکھنا۔اسی طرح شام کی فتح کے موقع پر نصاری شام کے عہدِصلح میں امیر المؤمنین نے ایک یہ شرط رکھی تھی کہ نصاری کسی امر میں مسلمانوں کے ساتھ تشبہ اختیار نہیں کریں گےنہ لباس میں،نہ عمامہ میں،نہ جوتے پہننے میں اور نہ سر کی مانگ نکالنے میں اور نہ مسلمانوں جیسا نام اور کنیت رکھیں گے۔ان نصوص اور آثارصحابہ سے معلوم ہواکہ شریعت میں غیر مسلموں کے خاص طور طریقوں کی مشابہت ،اختلاط اور میل جول اختیار کرنا ناجائز ہے۔
سوال میں ذکردہ حدیث سنن ابی داؤد،مسند احمد،مسند بزار،مصنف عبدا لرزاق اور مصنف ابن شیبہ وغیرہ نےذکر کی ہے،اس کے علاوہ علامہ ابن حجر ،عینی اور ملاعلی قاری نے اپنی شروحات میں اس کو ذکر کرکےاسی بات پر استدلال کیا ہے کہ غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنا جائز نہیں لہذا اس سے متعلق سوال میں مذکور اتراض درست نہیں۔ صحابہ کرام نے بھی اس حدیث کو کسی خاص باب یا واقعہ کے ساتھ مقید نہیں کیا بلکہ اس کے عموم سے استدلال کیا ہے چنانچہ حضرت عمر فاروق نے ایک شخص کو دیکھا جس نے(مجوس کی طرح) صرف اپنے سر کے پچھلے حصے کے بالوں کو کاٹا تھا اور ریشم کا کپڑا پہنا تھاتو آپ نے فرمایا:کہ جو شخص جس کی مشابہت اختیار کرے گا وہ قیامت کے دن اسی میں سے ہوگا۔ معلوم ہوا کہ یہ حدیث عام ہے ۔
قال اللہ تعالی:يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗ۔(البقرة:104)
نهى الله تعالى المؤمنين أن يتشبهوا بالكافرين في مقالهم وفعالهم... وروى أبو داود، عن عثمان بن أبي شيبة، عن أبي النضر هاشم بن القاسم به"من تشبه بقوم فهو منهم"ففيه دلالة على النهي الشديد والتهديد والوعيد، على التشبه بالكفار في أقوالهم وأفعالهم، ولباسهم وأعيادهم، وعباداتهم وغير ذلك من أمورهم التي لم تشرع لنا ولا نقرر عليها.(تفسير القران الكريم لابن كثير،سورة البقرة،الأية:104،ج:1،ص:373)
عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم فهو منهم.»(السنن لأبي داؤد،باب في لبس الشهرة،رقم الحديث:4031،ج:4،ص:78)
أخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، أن عمر بن الخطاب رأى رجلا قد حلق قفاه، ولبس حريرا، فقال: من تشبه بقوم فهو منهم(المصنف لعبد الرزاق،باب حلق القفا،رقم الحديث:22064،ج:10،ص:462)
(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،رقم الحديث:4347،كتاب اللباس،ج:7،ص:2782)
العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب.(روح المعاني،سورة النساء،ج:2،ص:298)
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ليس منا من تشبه بغيرنا، لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى، فإن تسليم اليهود الإشارة بالأصابع، وتسليم النصارى الإشارة بالأكف».(الجامع للترمذي،باب ماجاء في كراهية إشارة اليد بالسلام،رقم الحديث:2695،ج:5،ص:56)
أبو عثمان النهدي - رحمه الله - قال: «كتب إلينا عمر بن الخطاب، ونحن بأذربيجان، مع عتبة بن فرقد: يا عتبة إنه ليس من كدك، ولا كد أبيك، ولا كد أمك، فأشبع المسلمين في رحالهم مما تشبع منه في رحلك، وإياكم والتنعم وزي أهل الشرك، ولبوس الحرير، فإن رسول الله - صلى الله عليه وسلم- نهى عن لبوس الحرير.(جامع الأصول لأحاديث الرسول،الكتاب الأول في اللباس،ج:10،ص:687،رقم الحديث:8343)
وذلك مما رواه الأئمة الحفاظ من رواية عبد الرحمن بن غنم الأشعري قال: كتبت لعمر بن الخطاب رضي الله عنه حين صالح نصارى من أهل الشام: بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب لعبد الله عمر أمير المؤمنين من نصارى مدينة كذا وكذا إنكم لما قدمتم علينا سألناكم الأمان لأنفسنا.... وأن نوقر المسلمين وأن نقوم لهم من مجالسنا إن أرادوا الجلوس ولا نتشبه بهم في شيء من ملابسهم في قلنسوة ولا عمامة ولا نعلين ولا فرق شعر ولا نتكلم بكلامهم ولا نكتني بكناهم ولا نركب السروج ولا نتقلد السيوف ولا نتخذ شيئا من السلاح ولا نحمله معنا ولا ننقش خواتيمنا بالعربية ولا نبيع الخمور(التفسير لابن كثير،سورة:التوبة،الأية:29،ج:4،ص:115)