بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تھیلیسیمیا مرض کی وجہ سے حمل ساقط کرنا


سوال

ایک جوڑے کا پہلا بچہ تھیلیسیمیا  کا مریض ہے ،اب نیا حمل ٹھہرا ہےجس  کا بھی ٹیسٹ کرانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ  بھی تھیلیسیمیا کا مریض ہے اور حمل تین ماہ سے کم مدت کا ہے تو کیا ایسے حمل کا اسقاط جائز ہے یا نہیں ؟نیز پہلے بچے کے لیےکبھی کبھار خون کا ملنا انتھائی دشوار ہوتا ہے اور کبھی تو مالی مشکلات کی وجہ سے خون خریدنا بھی مشکل ہوتا ہے تو کیا ان وجوہات کی بنا ء پر تین ماہ سے کم مدت کا حمل ساقط کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے انسانی جان کے تحفظ اور احترام کی خاطر ناحق قتل کو حرام قرار دیا ہے خواہ وہ ماں کے پیٹ میں موجود  جنین ہی  کیوں نہ ہو،چنانچہ جب ماں کے پیٹ میں حمل ٹھہر جائے تو اس کے بعد    اسے  ضائع کرناجائز نہیں  ،تاہم اگر واقعی  کوئی ایسا عذر پیش آئے  جوبچے  یا ماں کی  صحت  کے لیے مضر ہو اور کوئی صالح ودیندار ڈاکٹر اسقاط حمل کا مشورہ دے تو ایسی  صورت میں چار ماہ سے کم عرصے کا  حمل  ساقط کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  ٹیسٹ کے ذریعے  حمل میں تھیلیسیمیا مرض  کی تشخیص  ہو چکی ہو تواگر یہ  ٹیسٹ  ظن غالب کا فائدہ دیتا ہوتو  چار ماہ سے پہلے پہلےاسقاط حمل کی گنجائش ہے ۔

 

(وجاز ‌لعذر) ‌كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي.( رد المحتار، على الدر المختار،ج:6،ص:429،دار الفكر،بيروت)

امرأة مرضعة ‌ظهر ‌بها ‌حبل ‌وانقطع ‌لبنها، ‌وتخاف ‌على ‌ولدها ‌الهلاك، ‌وليس لأب هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر، هل يباح لها أن تعالج في إسقاط الولد؟ قالوا: يباح ما دام نطفة، أو علقة، أو مضغة لم يخلق له عضو؛ لأنه ليس بآدمي.( المحيط البرهاني في الفقه النعماني،ج:5،ص:374،دار الكتب العلمية)

‌العلاج ‌لإسقاط ‌الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز... امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.وهكذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،ج:5،ص:356،دار الفكر،بيروت)


فتویٰ نمبر : 5746/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور