بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ماضی کے کسی کام پر طلاق کومعلق کرنا


سوال

کیا ماضی کے کسی کام پر تعلیق طلاق سے طلاق واقع ہوگی؟ مثلا ایک شخص سفر میں گیا اور اس کی دو بیویاں تھیں ایک بیوی نے کسی کام سے فون کیا تو پاس کسی عورت کی آواز آئی۔ اس نے شوہر کو کہا کہ تم سفر کا بول کر دوسری بیوی کے پاس گئے ہو۔ یہ انکار کرتا رہا۔ بالآخر غصہ میں اس شخص نے یہ کہا کہ " اگر میں اس کے پاس گیا ہوں تو اسے تین طلاق اور اگر نہیں گیا تو تجھے تین طلاق" واقعہ یہ ہے کہ وہ سفر ہی میں گیا تھا دوسری بیوی کے پاس نہیں گیا۔ اب اس صورت میں کونسی بیوی کو کتنی طلاق واقع ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق اگر ماضی کے کسی ایسےکام کے ساتھ معلق کیا جائے جو ماضی میں  ہوچکا ہو تو اسی وقت طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ ماضی كے كسی كام پر تعلیق تنجیز کے حکم میں ہوتی ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق جب شوہرنے فون پر بات کرنے والی بیوی کو غصہ کی حالت میں یوں کہا کہ "اگر میں اس کے پاس گیا ہوں تو اسے تین طلاق اور اگر نہیں گیا تو تجھے تین طلاق "تعلیق ہو جائے گی اور  حقیقت میں وہ   دوسری بیوی کے پاس جانے کی بجائے واقعی سفر میں گیا تھاتو فون پر بات کرنے والی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں چنانچہ بیوی شوہر کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے۔

 

(‌وإن ‌قالت: ‌قد ‌شئت ‌إن ‌كان كذا لأمر قد مضى طلقت) لأن التعليق بشرط كائن تنجيز۔(العناية شرح الهدايه، كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، فصل في المشيئة،ج4، ص:105)

(قوله ‌وإن ‌قالت: ‌قد ‌شئت ‌إن ‌كان كذا لأمر قد مضى) كشئت إن كان فلان قد جاء وقد جاء، أو لأمر كائن كشئت إن كان أبي في الدار وهو فيها طلقت لأن التعليق بأمر كائن تنجيز۔ (فتح القدير، كتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، فصل في المشيئة، ج:4، ص:105)


فتویٰ نمبر : 6886/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور