بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بچوں کی عمر کم لکھوانا


سوال

بچوں کی عمر کم لکھوانا شرعاً جائز ہے؟

جواب

 کسی شخص کا اصلی عمرکی بجائے کم یازیادہ عمرلکھنا، جھوٹ اوردھوکا دہی ہے جوکہ ناجائزاورحرام ہے؛ اس لیے جان بوجھ کرتاریخِ پیدائش میں غلط اندراج کروانے سے اجتناب ضروری ہے ،وگرنہ جب بھی، جہاں کہیں اورکسی بھی موقع پرتاریخِ پیدائش لکھنے کی نوبت آئے گی جھوٹ اوردھوکا دہی لازم آئے گی، اورحدیث شریف میں جھوٹ ، غدراوردھوکا دہی کی سخت ممانعت آئی ہے، لہذا اپنے بچے کی صحیح عمر لکھوانا ضروری ہے۔

 

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، ‌وإذا ‌وعد ‌أخلف، وإذا اؤتمن خان.( صحيح البخاري، ج:1، ص:16، رقم الحديث:33)

عن عبد الله بن عمر، رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «‌لكل ‌غادر ‌لواء ‌يوم ‌القيامة يعرف به.( صحيح البخاري، ج:9، ص؛25،رقم الحديث:6966)


فتویٰ نمبر : 5742/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور