بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

Merkez app کی شرعی حیثیت


سوال

مرکز ایک پاکستانی ایپ ہے جس میں آن لائن چیزوں کو فروخت کر کے پیسہ کمایا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ ایپ انسٹال کرتے ہیں پھر لاگ ان کر کے اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں، لاگ ان کرنے کے بعد آپ کے سامنے بہت سارے کیٹ لاگ آتے ہیں کپڑوں کے،مشین کے،میک اپ کے،شال کے،غرض ہر وہ چیز جو استعمال کی ہے روز مرہ کی زندگی میں ٬وہ ہمارے سامنے تصاویر کی صورت میں آتی ہیں یعنی کپڑے یا میک اپ یا کوئی بھی بیچنے کی چیز، سب کی الگ الگ بہت سے ڈیزائنگز میں تصاویر موجود ہوتی ہیں اور ہر تصویر کے نیچے ہر چیز کی تفصیلات لکھی ہوتی ہے۔ ساتھ میں رقم بھی لکھی ہوتی ہے۔ اب ہم ان تصاویر میں سے کسی بھی تصویر كو کسی کے ساتھ یاواٹس ایپ یا فیس بک وغیرہ کہیں بھی شیئر کرتے ہیں اور کہیں سے کوئی شخص ہمارے شیئر کی ہوئی تصاویر کو دیکھتا ہے اور ہمیں آرڈر دیتا ہے کہ فلاں چیز مجھے چاہیئے تو اب اُس شخص نے جو چیز آرڈر کی ہم اُس کی اصل رقم میں کچھ اپنا منافع رکھ کر کسٹمر کو چیز کی قیمت بتاتے ہیں ۔۔ مثلاً کسٹمر نے جس چیز کا ہمیں آرڈر دیا ہمارے شیئر کرنے کی وجہ سے ٬ وہ چیز اصل میں 800 کی تھی تو ہم اس میں 200 اپنا منافع رکھ کر اُسے وہ چیز ہزار کی بتاتے ہیں٬ پھر ہم اُس کا آرڈر اُس کا نام اُس کا ایڈریس ایپ کے اندر موجود آپشن میں لکھتے ہیں اُس کے بعد مرکز ایپ والے ہی لوگوں تک اُن کے ایڈریس پے اُن کا آرڈر پہنچا دیتے ہیں۔ ہمارا جو منافع ہم نے رکھا تھا مثلاً ٬200 تو ہمیں ہمارا منافع ایزی پیسہ٬جاز کیش یابینک اکاؤنٹ میں دے دیا جاتا ہے ۔۔ ڈیلیوری چارجز بھی کسٹمر یا مرکز ایپ والے دیتے ہیں ٬ ہم سے کُچھ پیسہ نہیں لیا جاتا، نہ سامان کا جو فروخت ہو رہا ہے نہ ڈیلیوری کا ۔ اور اگر کسٹمر کو چیز پسند نہ آئی وہ واپس بھی کر دیے تب بھی ہمیں ہمارا منافع ملےگا ۔ اور جب آرڈر کسٹمر تک پہنچے گا تو وہ مرکز ایپ کے نام سے نہیں بلکہ ہمارے نام سے جائےگا اور ہماری مرضی ہوگی ہم سارے کیٹالوگز کی تصاویر میں اپنا نام لکھ کر آگے شیئر کریں یا کسی کا نام بھی نہ لکھیں ۔۔ غرض مرکز ایپ ہمیں اُن کے ایپ کی چیزیں فروخت کرنے کے پیسے دیتا ہے اور منافع ہمیں کس چیز میں کتنا چاہیئے اِس کا اختیار بھی دیتا ہے ۔ برائے مہربانی بتائیں یہ کام اور اس سے پیسے کمانا کیا جائز ہے اور اگر نہ جائز ہے تو کیوں؟  

جواب

واضح رہے کہ عاقدین کے مابین خرید و فروخت کا معاملہ طے پاتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے گا کہ مبیع(فروخت کی جانے والی چیز)بائع (فروخت کرنے والا)کی ملکیت اور قبضہ میں ہو اور وہ چیز معلوم  اور متعین بھی ہو،لہذا اگر مبیع بائع کی ملکیت اورقبضہ میں نہ ہو تو یہ معاملہ جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق عقد بیع کے وقت مبیع بائع کی ملکیت  اور قبضہ میں نہیں ہوتی بلکہ محض  اشتہار دکھلا کر فروخت کی جاتی ہے،پھر کمپنی وہ چیز براہ راست مشتری(گاہک)تک پہنچاتی ہے،اور یہ بھی ممکن ہے کہ متعلقہ چیز کمپنی کی ملکیت میں بھی نہ ہو  بلکہ کسی اور جگہ سے خرید کر گاہک تک پہنچائے، لہذاعقد بیع کےوقت مبیع بائع کی ملکیت اور قبضہ میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں،تاہم اس کے جواز کی یہ صورت بن سکتی ہے کہ بائع وہ چیز متعلقہ کمپنی سے خود یا وکیل کے ذریعے خرید کر اپنی ملکیت اور قبضہ میں لاکر گاہک پر فروخت کرے اور یا حتمی معاملہ نہ کرے بلکہ گاہک کے ساتھ یہ وعدہ کرے کہ میں متعلقہ چیز کمپنی سے خرید کر آپ تک پہنچا دوں گا اس کے بعد کمپنی سے وہ چیز خرید کر ملکیت اور قبضہ میں لاکر گاہک تک پہنچائے،اسی طرح جواز کی دوسری صورت یہ بھی بن سکتی ہے کہ بائع  متعلقہ کمپنی کی طرف سے وکیل یا دلال (broker)بن کر ان کے لیے  وہ چیز فروخت کرےاور اپنے لیے اجرت متعین کرے۔

 

عن حكيم بن حزام قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يأتينی الرجل يسألني من البيع ما ليس عندی، أبتاع له من السوق، ثم أبيعه؟ قال: لا تبع ما ليس عندك.(السنن الترمذی ،باب ما جاء في كراهية بيع ما ليس عندك،ج:2,ص:525).

وكذا بيع ما ليس عند الإنسان لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تبع ما ليس عندك»، وكذا بيع ما لم يقبضه البائع لورود النهی عن ذلك.( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب البيوع،باب بيع الفاسد،ج:4،ص:43).

حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد، عن سفيان، عن حماد: «أنه كان يكره أجر السمسار إلا بأجر معلوم».(مصنف ابن ابی شيبه،فی اجر السمسار،ج:4،ص:454)


فتویٰ نمبر : 5766/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور