بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
بطور قرض لی گئی رقم کو صدقہ کرنا
سوال
میں نے کسی سے رقم بطور قرض لی تھی،لیکن میرے دوست کو پیسوں کی اشد ضرورت تھی میں نےاس کو وہ رقم صدقہ کی تو کیا میں نےجس سے قرض لیا ہے اس سے اجازت لینا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مقروض جب قرض کی رقم پر قبضہ کرتا ہے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہےاور مالک اپنی مملوکہ چیز میں ہر جائزتصرف کرنے کا حق رکھتا ہے لہذا وہ جو بھی جائز تصرف کرے تو نافذ اور مقبول ہوگا ،قرض خواہ کی اجازت پر موقوف نہیں ہوگا ،تاہم اس کے ذمے قرض خواہ کو رقم کی ادائیگی لازم ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی سےرقم بطور قرض لے کر آگے کسی کو صدقہ کرنا جائز ہے قرض خواہ سے اجازت لینا ضروری نہیں،تاہم صدقہ کرنے سے اس کا ذمہ فارغ نہیں ہوگا قرض خواہ کو قرض واپس کرنا لازم ہوگا۔
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه». (سنن الترمذي، ج:3، ص:381، رقم الحديث:1078)
أن المستقرض بنفس القبض صار بسبيل من التصرف في القرض من غير إذن المقرض بيعا، وهبة وصدقة، وسائر التصرفات، وإذا تصرف نفذ تصرفه ولا يتوقف على إجازة المقرض، وهذه أمارات الملك.(بدائع الصنائع،فصل فی حکم القرض،ج:7ص: (397