بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عورتوں کا درود شریف کے لیے مسجد میں اکھٹا ہونا


سوال

جس عبادت کے لئے کوئی کیفیت اور مخصوص وقت قرآن و حدیث اور صحابۂ کرام سے ثابت نہ ہو تو اس عبادت کو کسی کیفیت اور مخصوص وقت میں التزام کے ساتھ کرنا کیسا ہے ؟مثلاً: کسی مقام پر مہینہ کے آخری شنبہ کو مختلف اضلاع سے مرد و زن جمع ہو کر (مرد پہلی منزل پر اور عورت دوسری منزل پر)درود شریف پڑھیں تو اس طرح عورتوں کا مسجد میں جمع ہو کر درود شریف پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

جس عبادت كے ليے  قرآن وحدیث ميں  یا صحابہ کرام سے کوئی  خاص كيفيت  ثابت نہ ہو، اس کے مخصوص  وقت اور خاص کیفیت کا التزام کرنا  اور اسے لازم  اور ضروری سمجھنااور  نہ کرنے والوں پر نکیر کرنا، بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔نیز عورتوں کا شرعی ضرورت کے بغیر گھروں سے باہر نکلنا درست نہیں ہے،  بلکہ نماز جیسی  اہم عبادت کے متعلق  رسول اللہ ﷺ نے   اس بات کو پسند فرمایا ہے کہ عورت  مخفی مقام پر اور چھپ کر نماز پڑھے۔چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ" ایک خاتون کمرہ میں نماز پڑھے یہ صحن کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کے اندرچھوٹی کوٹھری میں نماز پڑھے، یہ کمرہ کی نماز سے بہتر ہے"۔

صورت  مسؤلہ کے مطابق عورتوں کا  مختلف  جگہوں سے ہر مہینے کے اخر میں درود شریف کے لیے  مسجد میں جمع ہونا اور اس کا  اہتمام  کرنا درست نہیں ،بلکہ اس میں کئی مفاسد ہیں اس لیے خواتین کو چاہیے کہ ذکرواذکار،درود شریف وغیرہ   اپنے گھروں میں انفرادی طور پر ہی انجام دیں۔

 

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد»۔(صحيح البخاري،ج:3،ص:183،رقم الحديث:2697)

قال الطيبي: وفيه أن ‌من ‌أصر ‌على ‌أمر ‌مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟ وجاء في حديث ابن مسعود: " «إن الله - عز وجل - يحب أن تؤتى رخصه كما يحب أن تؤتى عزائمه»۔(مرقاۃ المفاتیح ،ج:2،ص:755)

عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المرأة عورة، فإذا خرجت ‌استشرفها ‌الشيطان»: «هذا حديث حسن صحيح غريب۔(سنن الترمذي،ج:3،ص:468،رقم الحديث،1173)

عن أبي الأحوص عن عبد الله، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "‌صلاة ‌المرأة ‌في ‌بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها۔(سنن ابي داؤد،ج:1،ص:426،رقم الحديث،569)

فعن ابن مسعود رضي الله عنه مرفوعا قال: «صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها». اهـ. وهذا يدل على أن مرضى الشرع أن لا يخرجن إلى المساجد. وفي حديث آخر: «إن كان لا بد لهن من الخروج فليخرجن تفلات بدون زينة، فلا يتعطرن، فإن فعلن فهن كذا وكذا». يعني زوان. فهذه إباحة لا عن رضاء منه، كإباحة الفاتحة للمقتدين. فلم يرغبهن في الخروج، ونهى الأزواج عن منعهن عن الخروج أيضا.(فيض الباري على صحيح البخاري،ج:2،ص:412)


فتویٰ نمبر : 5751/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور