بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بیٹے کا والد کی جائیداد پر قبضہ کرنا
سوال
اگر کوئی شخص اپنے والد کی زندگی میں والد کی رضامندی کے بغیر اس کی زمین پر قبضہ کرے تو بعد میں یہ والد کا ترکہ شمار ہو گا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ زندگی میں باپ اپنی جائیداد کا خود مالک ہوتا ہے، اس میں کسی اولاد کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگرباپ کی زندگی میں کسی وارث نے والد کی زمین پر اس کی رضامندی کے بغیر قبضہ کیا ہو تو یہ اس کی ملکیت شمار نہیں ہو گی بلکہ والد کی وفات کے بعد باقی ترکہ کے ساتھ اِسے بھی تمام ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔
قال الله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: ٢٩]
بالباطل أي: من غير الوجه الذي أباحه الله تعالى۔( أبو إسحاق أحمد بن إبراهيم الثعلبي تفسير الثعلبي،سورة البقرة،ج:3،ص:83)
عن يحيى بن سعيد , عن أنس بن مالك , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه»(سنن الدار قطني،ج:3،ص:424،رقم الحديث:2885)