بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق میں میاں بیوی کا اختلاف


سوال

صبیحہ رحمان  جو کہ بلال کی زوجہ ہے وہ کہتی ہے کہ مجھے اپنے  شوہر نے تین مرتبہ صریح طلاق دی ہے اور میرےشوہر کی ساس یعنی میری والدہ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ میری بیٹی کو شوہر نے تین مرتبہ صریح طلاق دی ہےجب کہ شوہر کا کہنا ہے کہ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے غصہ  کی حالت میں اپنی ساس اور بیوی کو کہا کہ آپ لوگ جائیں دو مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ (تاسو مانا خلاص یے) اور تیسری مرتبہ کہا "آپ لوگ یہاں سے نکلے "لیکن میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔تاہم میں اپنے بیان میں اضطراب کا شکار ہوں۔لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے صریح طلاق نہیں دی ہے،البتہ میں اپنی ساس اور بیوی کی نہ تکذیب کر سکتا ہوں اور نہ تصدیق ۔شریعت کی روشنی میں مجھے ازدواجی تعلقات قائم رکھنے  اور نہ رکھنے  کے حوالے سے  کیا حکم ہے؟

جواب

جب طلاق کے معاملے میں میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہوجائے، بیوی طلاق کا دعوی کرتی ہو جب کہ شوہر انکار کر رہا ہو تو اس  صورت میں چونکہ بیوی مدعیہ ہے اس لیے اسے اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرنا ضروری ہے، اگر وہ گواہوں  کو پیش کرنے سے قاصر رہی تو شوہر کو قسم دی جائےگی۔نیز اگر کوئی لفظ طلاق کے لیے کنائی ہو، لیکن کسی عرف میں اس کا استعمال طلاق کے لیے اس کثرت سے  ہونے لگے کہ اس لفظ سے طلاق ہی کی طرف ذہن جاتا ہوتو اس لفظ کو صریح کا درجہ حاصل ہوتا  ہے، لہذا ایسے لفظ کے استعمال کرنے سے طلاق واقع ہوجائے گی، خواہ طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو ۔  نیز  غصہ کی حالت میں ایسا کنائی لفظ کہنا جس میں  کلام کے رد کرنے کا احتمال ہو  تو اس میں نیت کا  اعتبار ہو گا۔

صورت مسئولہ میں شوہر جن الفاظ کا اقرار کر رہا ہےکہ" تاسو مانا خلاص یے " كے الفاظ  دو مرتبہ استعمال کیے ہیں  تویہ الفاظ چونکہ صریح کے ساتھ ملحق ہیں  اس لیے ان سے دو طلاق  رجعی واقع ہو چکی ہیں اور تیسری مرتبہ"آپ لوگ یہاں سے نکلیں''کے الفاظ میں نیت کا اعتبار ہو گا ۔اگر اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو اس صورت میں شوہر کے پاس ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا جب کہ بیوی کی طرف سے تین صریح طلاق کا دعوی ہے اگر اس کے پاس اپنےدعوی پر دو گواہ موجود ہوں،یا شوہر طلاق کا اقرار کرلے تو تین  طلاقیں  واقع ہوں گی ، اور اگر عورت دو  معتبر گواہ پیش کرنے سے قاصر رہی تو شوہر کو قسم دی جائےگی، اگر شوہر نے قسم کھائی کہ اس نے کوئی صریح طلاق نہیں دی ہےتوعورت کا دعوی قابل اعتبار نہ ہو گا۔ تا ہم اگر عورت کو یقین ہو کہ شوہر نے اسے  تین طلاقیں دی ہیں لیکن وہ ثابت کرنے سے قاصر ہو  تو  عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کو اپنے آپ پر قدرت دے، بلکہ اپنے والدین کے گھر بیٹھ کر یا کچھ رقم وغیرہ دے کر یا  عدالت کے ذریعے  حتی الوسع جان چھڑانے کی کوشش کرے۔

 

وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول له إلا إذا برهنت. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،ج:1،ص:490)

وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه(الفتاوى الهندية، كتاب الکراھیة،ج:5،ص:361)

فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق.(رد المحتار على الدر المختار،ج:3،ص:299)

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية.قال ابن عابدين رحمه الله: (قوله ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:2،ص:247)

إن ‌الصريح ‌ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:2،ص:252)

فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا،۔۔۔(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا۔(الدر المختار مع رد المحتار،ج:3،ص:301)

الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة ۔۔۔وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم ۔الفتاوى الهندية،ج:1،ص:374)

وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السادس،ج:1،ص:470)


فتویٰ نمبر : 6871/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور