بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جنت میں امہات المؤمنین اور انبیاء کرام سے ملاقات کرنا


سوال

میری بزرگ ماں جو بہت نیک عورت ہے الحمدللہ وہ ہمیشہ جستجو میں رہتی ہے کہ کیا ہم عورتوں کو جنت میں انبیاء کرام کا دیدار نصیب ہوگا یا نہیں کیونکہ دنیا میں تو پردے کا حکم ہے نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا ہم مرد جنت میں اپنی امہات المومنات کا زیارت کر سکیں گے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ دنیا دارابتلاء ہے اور آخرت دارِ جزا ہے، آخرت میں ہر کسی کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا، صالح اور نیک لوگوں کے لیے انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے اور نافرمان اور گناہ گاروں کے لیے سزا کی  وعید ہے۔  اللہ اور رسول کی فرمانبرداری میں زندگی گزارنے والوں کے لیے آخرت میں دیگر انعامات کے ساتھ  یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ ان کو انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت اور رؤیت نصیب ہوگی ۔

نصوص کے مطابق جنت میں ہر جائز دلی مراد پوری ہوگی ، اس لیے کوئی بعید نہیں کہ  جنتی عورتیں انبیاء کرام کی ملاقات سے مستفید ہوں، اور جنتی مرد ازواج مطہرات کی زیارت سے مستفید ہوں، تاہم یہ امور غیبیہ میں سے ہے اور ان کا ادراکِ کامل اس دنیامیں کسی کو بھی نہیں ہے ، اس لیے ایسے امور میں غور و خوض کرنے کی بجائے اللہ تعالی کی رضاکے حصول کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔

 

قال الله تعالى:  وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقاً   (النساء:69)

وقال القرطبي رحمه الله: (فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم) أي هم معهم في دار واحدة، ونعيم واحد، يستمتعون برؤيتهم والحضور معهم، لا أنهم يساوونهم في الدرجة، فإنهم يتفاوتون، لكنهم يتزاورون، للاتباع في الدنيا والاقتداء.( تفسير الجامع لأحكام القرآن المعروف بالتفسيرالقرطبي ، ج:5، ص:272، النساء:69، دار الكتب المصرية)

وقال ابن کثیر تحت هذه الآية: أي ‌من ‌عمل ‌بما ‌أمره ‌الله ‌به وترك ما نهاه الله عنه ورسوله فإن الله عز وجل يسكنه دار كرامته ويجعله مرافقا للأنبياء ثم لمن بعدهم في الرتبة وهم الصديقون، ثم الشهداء والصالحون الذين صلحت سرائرهم وعلانيتهم ثم أثنى عليهم تعالى فقال: وحسن أولئك رفيقا.( تفسير ابن كثير،ج:3، ص:310، النساء69، دار الكتب العلمية)

قال الإمام الطبري رحمه الله:يقول تعالى ذِكْره : وعند هؤلاء المخلصين من عباد الله في الجنة : قاصرات الطرف ، وهنَّ النساء اللواتي قصرن أطرافهن على بعولتهن ، لا يُردن غيرهم ، ولا يمددن أبصارهن إلى غيرهم.( تفسير الطبري جامع البيان،ج:21، ص:41، الصافات:48، دار التربية والتراث مكة المكرمة)


فتویٰ نمبر : 5752/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور