بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
گھر بنانے کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ کو بیچنے کی صورت میں زکوۃ
سوال
آج سے سات سے سال قبل2017 میں ہم چار بھائیوں نے مل کر گھر بنانے کی غرض سے ایک کنال پلاٹ خریدا ،2021 تک یہی ارادہ تھا ،بعد میں یہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے تیار مکان خرید لیں گےاور اس پلاٹ کو فروخت کریں گے لیکن آج(دسمبر2023) تک یہ پلاٹ فروخت نہیں ہوا ،پچھلے دو سالوں سے ارادہ فروخت کرنے کا ہے توکیا ان دو سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی ہم پر ہوگی یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ پلاٹ یا دوسری جائیداد میں زکوۃ کے وجوب کے لیے ابتداءتجارت کی نیت کا ہونا ضروری ہے،اگر خرید تے وقت تجارت کی نیت نہ ہو تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ بعد میں نیت تبدیل ہوجائے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ پلاٹ گھر بنانے کی غرض سےخریدا گیاتھا اس لیے اس پلاٹ میں زکوۃ واجب نہیں اگر چہ بعد میں بیچنے کا ارداہ کیا ہو۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: ليس في العروض زكاة إلا ما كان للتجارة.( السنن الكبير،ج:8،ص:231،رقم الحديث:7679،مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية،القاهرة)
إذا كانت النية بعد الملك فلا بد من اقتران عمل التجارة بنيته؛ لأن مجرد النية لا يعمل فلا يصير حتى يبيعه بالإجماع.( البناية شرح الهداية،ج:3،ص:384)
ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر.( فتح القدير على الهداية،ج:2،ص:168)