بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

داڑھی منڈوانے میں اپنے آپ کو خوبصورت سمجھنے کاحکم


سوال

میرے ذہن میں کئی دنوں سے یہ بات ہے کہ لوگ خوبصورتی کی وجہ سے داڑھی منڈواتےیا ایک مشت سے کم کرتے ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں کو داڑھی میں خوبصورتی نہیں لگتی اور میں نے دیکھا ہے کہ آپ ﷺکی ادنی سنت سے ناپسنددیدگی کا اظہار کفر ہےتو کیا ایسی صورت پر ناپسنددیگی کا اطلاق صادق آتا ہے یانہیں؟اسی طرح لوگ داڑھی منڈواکر آئینے میں اس لئے دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے لگ رہے ہیں،ایسے میں اگر ان کو اپنا آپ خوبصورت نظر آئیں تو کیا یہ کفر ہے یافسق؟اگر کوئی شخص داڑھی کو سنت اور شریعت کا حکم مانتا ہو اور اس کی توہین بھی نہ کرتا ہو لیکن اس کو شیوہ کرنے میں اپنے آپ کو خوبصورت کہتا اور مانتا ہو تو اس سے کافر ہوگا یا نہیں؟اسی طرح معاشرے میں کئی لوگ فیشن اور خوبصورتی کی وجہ سے بعض احکامات کو چھوڑتے ہیں جیسے ٹخنوں سے پانچے کو لٹکانا وغیرہ،اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

داڑھی رکھناتمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور شعائر دین میں سے ہے۔آپ  ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کی ہدایت دی اور اس کے رکھنے کا  حکم دیا ، اس لیے  جمہور علمائے امت کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب اور اس کو کترواکریا منڈوا کر ایک مشت سےکم کرنا  حرام  اور گناہِ کبیرہ ہے۔اور اس کا مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے،لیکن اگر کوئی شخص شریعت کے احکام کو مانتا ہو مگر ماحول یا فاسد طبیعت کی وجہ سے اس پر عمل نہ کرتا ہو تو اس سے کفر لازم نہیں آتا ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص  داڑھی منڈانے کی  تو ہین و تحقیر نہ کرے  لیکن اُسے اپنا چہرہ داڑھی کے بغیر خوبصورت نظر آتا ہوتو یہ اس کے عقیدے کا فساد نہیں،طبیعت کا فساد ہےکہ اچھا اُسے برا اور برا اُسے اچھا لگ رہا ہےلہذا اس شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہی حکم دیگر گناہوں کے ارتکاب کا بھی ہے۔

 

وعن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: انهکوا الشوارب وأعفوا اللحی". (صحیح البخاري، کتاب اللباس،باب إعفاء اللحی،ج:2؍ص:875،رقم الحديث:5893)

«جزوا الشوارب وأعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل. وأما ‌الأخذ ‌منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد.(فتح القدير،ج:2،ص:348)

وأما ساداتنا الحنفية رضي الله تعالى عنهم فلم يشترطوا في الإكفار ‌سوى ‌القطع ‌بثبوت ‌ذلك ‌الأمر الذي تعلق به الإنكار لا بلوغ العلم به حد الضرورة وهذا أمر عظيم وكأنه لذلك قال ابن الهمام: يجب حمله على ما إذا علم المنكر ثبوته قطعا لأن مناط التكفير التكذيب أو الاستخفاف(تفسير روح المعاني،ج:1،ص:29)

وفي جامع الفصولين روى الطحاوي عن أصحابنا لا يخرج الرجل من الإيمان ‌إلا ‌جحود ‌ما أدخله فيه ما تيقن أنه ردة يحكم بها به وما يشك أنه ردة لا يحكم بها إذ الإسلام الثابت لا يزول بشك مع أن الإسلام يعلو.( البحر الرائق،ج:5،ص:143)

إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ‌ووجه ‌واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة.(الفتاوى الهندية،الباب العاشر في البغاة،ج:2،ص:283)


فتویٰ نمبر : 5725/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور