بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سوشل میڈیا پر قادیانیوں کے ساتھ تعلق رکھنا


سوال

کیا قادیانیوں کو فیس بک پر ایڈ کرنا یا  فرینڈ ریکویسٹ کرنا یا ان کو قبول(اکسپٹ)کرنے میں کوئی حرج ہے۔اسی طرح اصلاح کی غرض سے ان کے کسی گروپ کو جوائن کرنا ،ان سب باتوں میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں انسانیت کے ساتھ ہمدردی، حسنِ اخلاق اور اچھے برتاؤ کی تاکید کی گئی ہےحتی کہ جو  غیرمسلم  مسلمانوں کے ساتھ برسرِپیکار نہ ہوں تو ان کے ساتھ بھی حسنِ اخلاق اور ہمدردی کا رویہ رکھنے کا حکم  دیا گیا ہے، لیکن جو لوگ مسلمانوں کی روپ میں اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہوں اور ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوں تو ان کا حکم عام کفار جیسا نہیں بلکہ ان کےساتھ موالات اور ہر قسم کے تعلقات کو شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے۔ چونکہ قادیانی بھی  اسلام کی روپ میں اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی کرنا چاہتے ہیں ،اس لیے ان کے  ساتھ  تعلقات  ترک کرنا لازم ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص  قادیانیوں کے غلط عقائد  سے مکمل واقف ہو اور ان کے ساتھ حکمت وبصیرت سے  بحث ومباحثہ کرنے کی  صلاحیت  رکھتا ہو تو ایسے شخص کے لیے گنجائش ہے کہ قادیانیوں  کے کسی گروپ  کو جوائن کرے یا سوشل میڈیا پران کو فرینڈ بنائے تاہم یہ تعلق محض اصلاح کی نیت سے ہو،دِلی تعلق ہرگز  نہ ہو۔ لیکن اگر ان کے عقائد سے پوری طرح اگاہ نہ ہو یا ان سے بحث و مباحثہ کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو پھر  سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ  تعلق  بنانا  اپنے آپ کو گمراہی کی دلدل میں پھنسانے کے مترادف ہے اس لیے اس سے اجتناب لازم ہوگا ۔

 

قال الله تعالی: ﴿ لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ﴾ (المجادلة: 22)

وقال: ﴿ وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ﴾ (الانعام: 68)

وهذا يدل على أن علينا ترك مجالسة الملحدين وسائر الكفار عند إظهارهم الكفر والشرك وما لا يجوز على الله تعالى إذا لم يمكننا إنكاره. (احکام القرآن للجصاص، سورۃ الانعام، باب النهي عن مجالسة الظالمین،ج:3/ ص:2)

 وثانيها إجماع الامة على تكفير من خالف الدين المعلوم بالضرورة. (مجموعة رسائل الكشميري،ج:3،ص:8)


فتویٰ نمبر : 5789/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور