بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
میت کو آبائی وطن پہنچانے کے لئے کمیٹی قائم کرنا
سوال
ہمارے پٹھان بھائی کثیر تعداد میں خلیجی ممالک میں پیسہ کمانے کے لیے مسافر ہیں بالخصوص امارات میں پھر وہیں ایک یا چند قریبی قبیلے ایک ساتھ ایک ہی ہاسٹل میں قیام پذیر ہوتے ہیں تا کہ اتفاق و اتحاد بھی بر قرار ہو اور ایک دوسرے کا تعاون و تناصر بھی کیا جاسکے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ایک مرتبہ مسافر ہو جائے تو پھر طویل عرصہ تک مسافر ہی رہتا ہے ،اور بعض کا انتقال وہیں ہوجاتا ہے اور پھر لاش کو آبائی وطن پہنچانے کے لیے ان حضرات کے ہاں وہاں ایک کمیٹی مروج ہے ہمارا سوال اس خاص کمیٹی کے بارے میں ہےکہ شرعا اس کا کیا حکم ہے؟ اس کمیٹی کی حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی مسافر وہاں انتقال کر جائے تو اس کی لاش پاکستان میں آبائی وطن پہنچانا ہوتا ہے، لیکن اس پر تقریبا سات، آٹھ ہزار درہم خرچ ہوتے ہیں جو کہ بہ موقع ایک غریب مسافر کے پاس موجود نہیں ہوتے ہیں، اس لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی ممبر فوت ہو جائے تو ممبران کو اطلاع کر کے فی ممبرکمیٹی کے سیکرٹری کو پچاس (50) در ہم بنام چندہ مہم پہنچانا لازم ہوتا ہے۔ پھر چونکہ اس کمیٹی کے سینکڑوں ممبر ہوتے ہیں اس لیے فنڈ میں بھاری رقم جمع ہو جاتی ہے جس کی مقدار تقریبا دس پندرہ لاکھ روپے بن جاتی ہے۔ اس سے میت آبائی وطن پہنچایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں دیگر اخراجات بھی اس رقم سے پوری کی جاتی ہیں۔ پھر جورقم بچ جائے تو میت کی بیوہ اور بچوں کو پہنچائی جاتی ہے، لیکن اس کمیٹی کے ممبر بننے اور بوقت فوتگی اس سے مذکورہ مراعات حاصل کرنے کےلئے چند شرائط ہوتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:(1)ممبران میں سے کسی بھی ممبر کی فوتگی کے وقت فی ممبر پچاس درہم سیکرٹری کو لازمی پہنچائے گا۔ (2) جو ممبر چھٹی پر اپنے وطن چلا گیا ہو تو کسی ممبر کی فوتگی کے وقت وہ چندہ جمع کرے گا نیز خدا نخواستہ اگر دوران چھٹی کوئی ممبر اپنے ہی وطن میں انتقال کر جائے تو اس کے لیے بھی مذکورہ فنڈنگ کیا جائے گا (3) کسی ممبر کی فوتگی کے بعد ہر ایک ممبر تین دن کے اندر اندر چندہ جمع کرے گا ورنہ ہ بصورت تاخیر اس پر علاوہ چندہ ،سو (100) در ہم جرمانہ بھی عائد ہو گا(4) جس ممبر نے کسی ممبر کی فوتگی کی صورت میں بالکل ہی چندہ جمع نہ کیا ہو تو وہ دوسری فوتگی کے وقت بجائے پچاس درہم کے دو سو (200) درہم جمع کرے گا اور جس نے مسلسل تیسری فوتگی کے وقت مقرر وقت میں بھی چندہ جمع نہ کیا ہو تو اس کی رکنیت ختم کر کے کمیٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔ اگر فوت ہو جائے تو نہ اس کو فنڈ لے گا اور نہ ہی جمع کیے ہوئے درا ہم واپس ملیں گے۔(7) کسی فوتگی کے وقت چونکہ فی الفوراکثر ممبر ان سے چندہ جمع کرنا دشوار ہوتا ہے اس لیے مثلاً: امارات،اور دبئی کے ممبران میں سے تین اشخاص ایسے منتخب کیے جاتے ہیں۔ جو میت کے لیے سر دست اپنے مال سے تین ،تین ہزار کل نو ہزار درہم جمع کر کے بعد میں اپنے ماتحت ممبر ان سے وصول کریں گے۔ چونکہ یہ رسم ورواج اور طریقہ پچھلے کئی دہائیوں سے رائج ہے لہذا اگر نا جائز ہو تو اسکا متبادل کیا ہو گا؟
جواب
سوال میں مذکورہ فلاحی تنظیم کے مقاصد بظاہر ہمدردانہ اور قابل تعريف ہیں، لیکن یہ مذکورہ مقاصد سے ہٹ کردرجہ ذیل شرعی قباحتوں پر مشتمل ہے:
1۔اس تنظیم کو چلانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر ممبر کو پچاس درہم دینا ضروری ہے ،جس میں بعض اوقات خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں،لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔
2۔ اسی طرح دیگر اخراجات میں اگر تعزیت کے ایام میں کھانا کھلانا وغیرہ بھی شامل ہوتوایک عمومی دعوت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، حالانکہ مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہو۔
3۔ جو لوگ چندہ دینے میں تاخیر کرتے ہیں تو ان سے مالی جرمانہ کے طور پر اضافی دراہم لئے جاتے ہیں جوکہ جائز نہیں۔
4۔ جن لوگوں کی رکنیت رقم نہ دینے کی وجہ سے منسوخ کی جاتی ہے،تو ان کے جمع کئے ہوئے پیسےواپس نہیں کئے جاتے جوکہ ناجائز ہے۔
5۔اگر رقم دینےوالوں نے رقم بطور قرض یا ہبہ بشرط العوض دیا ہو جیساکہ یہی صورت معلوم ہوتی ہےکیونکہ رقم نہ دینے کی صورت میں رکنیت منسوخ ہوجاتی ہے تو بھی سود کی وجہ سے ناجائز ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق مذکورہ فلاحی تنظیم مذکورہ بالا قباحتوں کے پیشِ نظر جائز نہیں ہے، اس سے بچنا لازم ہے،البتہ اس کا متبادل حل یہ ہے کہ اگرمندرجہ بالا قباحتوں سے اجتناب کرتے ہوئے یہ طریقہ اختیار کیا جائےکہ پہلے سے کوئی رقم وغیرہ جمع نہ کی جائے بلکہ وفات کے وقت ہی ہنگامی طورپر اہل محلہ یا اہل خاندان اپنی اپنی وسعت کے مطابق رقم اکٹھی کریں ،کسی پر کسی قسم کاجبر نہ ہو،پھر جتنی رقم کی ضرورت ہو اس کواستعمال کیا جائے ، اگر کوئی رقم بچی رہےتو وہ چندہ دہندگان ہی کی ملکیت رہے گی لہذا یہ رقم ان کی صواب دید پر خرچ ہوگی ۔چاہے وہ واپس لے لیں یا اہل میت کو دے دیں ۔ ایسے موقع پرمیت کے اہل خانہ سے اس مد میں کوئی رقم نہ لی جائے ، کیونکہ یہ مرنے والے کے اہل خانہ کی طرف سے دعوت کے مماثل ہوجائے گاجو شرعا ممنوع ہے۔
دوسری متبادل صورت یہ ہے کہ اس کمیٹی کا قیام وقف کی بنیاد پر ہو، جس کا طریقہ یہ ہو گا کہ ابتداء میں کچھ متبرعین حضرات اپنی طرف سے کچھ رقم وقف کریں جس پر وقف فنڈ قائم ہوجائے۔پھر ممبران اس فنڈ کو رقم دیا کریں وہ رقوم اس وقف فنڈ کی ملکیت ہوگی ۔واقفین جو اس فنڈ کے لیے اول مرتبہ رقوم وقف کرتے ہیں وہ شرائط اور طریقہ کار وضع کرلیں اور بہتر یہ ہے کہ تحریری شکل میں محفوظ کرلیں کہ اس وقف سے کس کے ساتھ کس حد تک کن شرائط کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ نیز اس کے لئے متولی بھی مقرر کریں ۔ چندہ دہندہ کو اپنی رقم واپس لینے کا حق حاصل نہ ہوگا ، چناچہ کسی ممبر کے لیے واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہ ہوگا ۔انتظامیہ کی حیثیت متولی کی سی ہوگی جس کا کام شرکاء کے لیے موقوفہ رقم پر قبضہ کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ،اور وضع کردہ اصولوں کے تحت اس فنڈ سے خرچ کرنا ہوگا ۔اراکین کمیٹی اس کے مالک بھی نہ ہوں گے۔
عن عبد اللّٰه بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلی اللّٰه علیه وسلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاماً فإنه قد جاء هم ما یشغلهم. قال أبو عیسی: هذا حدیث حسن صحیح، وقد کان بعض أهل العلم یستحب أن یوجه إلی أهل المیت شيء لشغلهم بالمصیبة.(السنن للترمذي،أبواب الجنائز، باب ما جاء في الطعام یصنع لأهل المیت، ج:1،ص:320)
عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه.(المسند للإمام أحمد،رقم الحدیث:20714،ج:5،ص:72)
مطلب في کراهة الضیافة من أهل المیت وقال أیضاً ویکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهه بدعة مستقبحة، وروی الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحیح عن جریر بن عبد اللّٰه قال: کنا نعد الاجتماع إلى أهل المیت وصنعهم الطعام من النیاحة الخ(رد المحتار على الدر المختار.کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج:2،ص:240)
قال ابن عابدین :لایخفی علیک ان المفتی بہ الذی علیہ المتون جواز وقف المنقول الممتعارف ۔وقد صحح العلماء وقف الماء مع انہ منقول ،ویہلک بالاستھلاک ،فالنقود مثلہ بل اولی ،فان النقود مال بالاصالۃ والماء مال بالتقویم والحیازۃ۔
قال ابن عابدین ؒ:ان الدراھم لاتتعین بالتعیین فھی وان کانت لا ینتفع بھا مع بقاء عینھا لکن بدلھا یقوم مقامھا لعدم تعیینھا فکانھا باقیۃ۔القول بجواز وقف النقود اقوی من حیث القیاس ،وانفع للعباد والمنع فیہ تضییق لباب من ابواب الخیر،دون دفع مفسدۃ تخشی۔
وأن وقف المنقول لا يجوز، وإن كان مضافا إلى ما بعد الموت، وهو قول أبي يوسف، فأما عند محمد وقف المنقول جائز فيما هو متعارف بين ذلك في السير الكبير وروى فيه أن ابن عمر - رضي الله عنه - مات عن ثلثمائة فرس ونيف ومائتي بعير مكتوب على أفخاذها حبس لله - تعالى - فجوز ذلك استحسانا(المبسوط للسرخسي،باب الوصية بالغلة،ج:27،ص:190)
(وعن محمد جواز وقف ما جرى فيه التعامل كالفأس والقدوم والمنشار والقدور والجنازة والمصاحف والكتب) لوجود التعامل في هذه الأشياء، وبالتعامل يترك القياس كما في الاستصناع، قال - عليه الصلاة والسلام -: «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن» ، (بخلاف ما لا تعامل فيه) كالثياب والأمتعة ; لأن من شرط الوقف التأبيد كما بينا تركناه في السلاح والكراع بالنص، وفيما جرى فيه التعامل بالتعامل فبقي ما وراءه على الأصل (والفتوى على قول محمد) لحاجة الناس وتعاملهم بذلك.(الاختيار لتعليل العليل المختار،باب الوقف،ج:3،ص:42)
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح : وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال، وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز، ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف، قال في الشرنبلالية : ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه، ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان......... وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ، و الحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال".(رد المحتار على الدر المختار،کتاب الحدود، باب التعزیز، ج: 4، ص: 62)