بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کا تین طلاقوں کا دعوی اور شوہر کا انکار


سوال

بیوی اپنے شوہر پر دعوی کر رہی ہے کہ اس نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں  لیکن  شوہر انکارکرتا ہے اور بیوی کے پاس گواہ نہیں تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟ اور بیوی اس کے پاس رہ سکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہےکہ جب میاں بیوی کےدرمیان طلاق کےوقوع میں اختلاف واقع ہوجائے،بیوی طلاق کادعوی کررہی ہواورشوہر انکارکررہاہوتوبیوی کے ذمے اپنے دعوی پردومعتبرگواہوں کاپیش کرنالازم ہے،اگراس کےپاس گواہ نہ ہوں توشوہرکوقسم دی جائےگی۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگربیوی طلاق کادعوی کررہی ہو کہ مجھےشوہرنے تين طلاقیں دی ہیں جبکہ شوہراس کاانکاررہاہوتوبیوی کے ذمے اپنے دعوی پردومعتبرمردیاایک مرداوردوعورتیں بطورگواہ پیش کرنالازم ہے،لیکن  اگر بیوی کےپاس گواہ نہ ہوں توشوہر کوقسم دی جائےگی اگروہ قسم اٹھائےتوعورت کا دعوی رد ہو جائے گا ۔ البتہ  اگر عورت کو یقین ہو کہ شوہر نے اسے  تین طلاقیں دی ہیں لیکن وہ ثابت کرنے سے قاصر ہو  تو اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کو اپنے آپ پر قدرت دے، بلکہ اپنے والدین کے گھر بیٹھ کر یا کچھ رقم وغیرہ دے کر  حتی الوسع جان چھڑانے کی کوشش کرے، اگر کوشش کے باوجود کسی طرح بھی جان نہ چھوٹےتو اس صورت میں عدالت میں تنسیخ نکاح کے لیے درخواست دے کرجان چھڑانے کی کوشش کرے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتو عورت عنداللہ معذور ہوگی،اور سارا گناہ مرد پر ہوگا۔

 

وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول قول الزوج إلا أن تقيم المرأة البينة لأنه متمسك بالأصل وهو عدم الشرط ولأنه ينكر وقوع الطلاق وزوال الملك والمرأة تدعيه.(الهداية، كتاب الطلاق، باب الأيمان فى الطلاق، ج:2، ص:399)

وكذلك إن سمعت أنه ‌طلقها ‌ثلاثا ‌وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.( الفتاوى العالمكيرية ، كتاب الكراهية، الباب الثاني في العمل بغالب الرأي، ج:5 ، ص:313)

ونصابهالغيرهامن الحقوق سواء كان الحق مالاأوغيره كنكاح وطلاق...)( رجلان...أو رجل وامرأتان).(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الشهادات، ج:5، ص:465)

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها ‌عدل ‌لا ‌يحل له تمكينه ....وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.( ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطلاق ، باب صريح الطلاق ، ج:3 ، ص:251)


فتویٰ نمبر : 6864/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور