بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
"ایک ،دو ،تین اپنے ميكے چلی جا"کےالفاظ سے طلاق کا حکم
سوال
زید نے اپنی بیوی سےکہا: ایک ،دو ،تین اپنے میکے چلی جا تو اس صورت میں کونسی اور کتنی طلاق واقع ہو گی؟
جواب
علاقائى طور پر جو الفاظ بيوى كوطلاق دينے كے ليے استعمال ہوتے ہیں،غصہ یا مذاکرہ طلاق کے وقت جب وہ الفاظ استعمال کئے جائیں تو ان سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے الفاظ"ایک،دو،تین اپنے میکےچلی جا"میں دیکھا جائے گا کہ اگر علاقائی سطح پر عرف و عادت میں "ایک ،دو،تین"کے الفاظ طلاق دینے کے لیےاستعمال ہوتےہوں تو مذکورہ الفاظ سے تین طلاقیں واقع ہوں گی اور عورت مطلقہ مغلظہ ہو گی۔
والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين، فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف كما في زمانهم. وأما إذا تعورف استعماله في مجرد الطلاق لا بقيد كونه بائنا يتعين وقوع الرجعي به(ردالمحتار علی درالمختار،کتاب الطلاق،ج:4،ص:530)
رجل قال لإمرأته"ترايكى وتراسه"أوقال"تويكى وتوسه"قال أبو القاسم الصفار :لايقع شيءوقال الصدرالشهيد:يقع إذا نوى قال وبه يفتى.(خلاصة الفتاوى،كتاب الطلاق،الفصل الثانى فى الكنايات،ج:2،ص:98)