بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مسجد کے لیے وقف زمین میں دکانیں اور کمرے تعمیر کرنا
سوال
مسجد کیلئے وقف زمین کے نیچے دکانیں اوراوپرمدرسے کے کمرے اورآخری منزل پرمسجدتعمیرکرنا شرعا کیساہے؟
جواب
واضح رہےکہ جب زمین کسی خاص مصرف کےلیے وقف کی جائےاور وقف تام بھی ہوجائےمثلامسجد کےلیے وقف کی ہوئی زمین میں اگرایک مرتبہ بھی نماز باجماعت ادا کی جائے تواس سے وقف تام ہوجاتاہے شرعی لحاظ سےاس طرح موقوفہ زمین کو دوسرے مصرف میں استعمال نہیں کیاجاسکتا۔تاہم اگر موقوفہ زمین میں ابھی تک ایک مرتبہ بھی نماز باجماعت ادا نہ ہوئی ہو تو وقف تام نہیں ہوا،لہذا ایسی زمین پر واقف کی اجازت سے نچلی منزل میں مسجد کے مصالح کے لیے دکانیں بنانے کی شرعاً گنجائش پائی جاتی ہے۔
صورت مسئولہ میں جو زمین مسجد کےلیے وقف ہوئی ہے اگر اس زمین پر ایک مرتبہ بھی نماز باجماعت پڑھی گئی ہو تو نچلی منزل میں دکانیں تعمیر کرنا یا اوپر مدرسہ کے لیے کمرے تعمیر کرنا جائز نہیں ۔تاہم اگر اس زمین پر اب تک باجماعت نماز نہ پڑھی گئی ہو تو پھر واقف كی اجازت سے نچلی منزل میں مسجد کے مصالح کےلیے دکانیں بنانے یا مدرسہ کے لیے کمرے بنانے کی شرعا گنجائش ہے۔
وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس (ولو جعل لغيرها أو) جعل (فوقه بيتا وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجدا.(الدر المختار مع رد المحتار،ج:4،ص:357)
حاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى:" وأن المساجد لله" بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد فهو كسرداب بيت المقدس.( رد المحتار علی الدر المختار ،كتاب الوقف ،مطلب فى أحكام المسجد،ج:4،ص:458)
لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع۔(الدر المختار مع رد المحتار،ج:4نص:358)
وأما الصلاة فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلي فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا، كما قال محمد - رحمه الله تعالى - رواية الحسن، كذا في فتاوى قاضي خان ويشترط مع ذلك أن تكون الصلاة بأذان وإقامة جهرا لا سرا، حتى لو صلى جماعة بغير أذان وإقامة سرا لا جهرا لا يصير مسجدا عندهما، كذا في المحيط والكفاية.(الفتاوی الهندية،ج:2،ص:455)