بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے کا حکم


سوال

اگر ایک شخص سے فریق نے کہا  کہ شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے تو اس نے کہا کہ نہیں رواج کے مطابق کریں گے تو کیا اس جملہ کے کہنے سےوہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوا یا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص د ل سے شریعت  کو معاملات زندگی میں فیصلہ کے لیے  تسلیم نہیں کرتا یا شریعت کو غیر مفید اور نامکمل سمجھ کر انکار کرتا ہو تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے،لیکن اگر کوئی شخص دل سے شریعت  کو تسلیم کرتا ہو لیکن اس پر فیصلہ کرنے سے گریز کرے تو ایسا شخص کا فر  نہیں ہوتا ،تاہم گناہ گار ضرور ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی شخص کا یہ کہنا کہ '' رواج کے مطابق فیصلہ کریں گے'' تو اس سےدائرہ اسلام سے  خارج نہیں ہوتا کیوں کہ ان الفاظ کا مطلب شریعت کے حکم کو ماننے سے انکار کرنا نہیں بلکہ اس کے مطابق فیصلہ کرنے سے گریز  ہے ،البتہ  اس سے گناہ گار ہوتا ہے،چنانچہ ایسا کہنے سے احتراز ضروری ہے۔

 

أو قال ‌اذهب ‌معي ‌إلى ‌الشرع فقال لا أذهب حتى بالبيدق كفر إذا عاند الشرع بخلاف ما إذا أراد دفعه في الجملة عند المخاصمة أو قصد أنه صحح الدعوى فيستحق المطالبة أو تعلل لأن القاضي ربما لا يكون جالسا في المحكمة فلا يكفر أما لو قال إلى القاضي فقال لا أذهب فلا يكفر.( مَجمع الأنهُر في شرح ملتقَى الأبحُر،ج:1،ص:696)

وفي الخلاصة وغيرها ‌إذا ‌كان ‌في ‌المسألة ‌وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،ج:5،ص:134)


فتویٰ نمبر : 5732/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور