بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایک گاؤں کی فلاحی تنظیم کی حیثیت


سوال

ہمارے گاؤں میں  "اتفاقی فلاحی تنظیم"کے نام سے باہر ملک(دبئی)سے بنی ہےاور اس تنظیم کو چلانے والے تقریبا آٹھ افراد ہیں۔اس تنظیم کے چلانے کا طریقہ یوں ہے کہ ہمارے گاؤں کے جتنے افراد دبئی میں ہیں ،ان پر کچھ محدود رقم مقرر کی گئی ہے۔اسی طرح جس گھر کے ایک سے زیادہ افراد باہر ہوں تو ان میں سے ہرایک سے محدود رقم لی جاتی ہےاور اگر کسی کا کوئی فرد بھی دبئی میں نہ ہو تو اس سے کچھ نہیں لیتےاور یہ رقم دبئی سے ہمارے گاؤں میں آکر مندرجہ ذیل جگہوں پر تنظیم  خرچ کرتی ہے جبکہ ان لوگوں کی طرف سے اجازت ہوتی ہے کہ تنظیم جس طرح خرچ کرنا چاہے تو خرچ کرسکتی ہیں:مساجد کی عمارتوں پر،قبرستان اور جنازگاہ پر،غریبوں کے کاموں پراور دیگر فلاحی کام سڑک وغیرہ پر خرچ کرتی ہے،اسی طرح میت کی تجہیز اور تکفین اور تعزیت کےلئے تین تک کھانا وغیرہ کا خرچہ  بھی اسی سے ہوتا ہے؟کیا اس طرح چلانا جائز ہے یانہیں؟

جواب

سوال میں مذکورہ فلاحی تنظیم کے مقاصد بظاہر  نیک اور ہمدردانہ ہیں، لیکن یہ  مذکورہ مقاصد سے ہٹ کردرجہ ذیل شرعی قباحتوں پر مشتمل  ہے:

1۔اس تنظیم کو چلانے کے لئے ضروری ہے کہ جس کے گھر کے جتنے افراد باہر ملک میں رہتے ہوں،ان میں سے ہر ایک کا چندہ دینا ضروری ہے ،جس میں بعض اوقات  خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں،، لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔

2۔ اس طریقہ کار میں تعزیت کے ایام میں  کھانا کھلانا ایک عمومی دعوت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، حالانکہ  مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہو۔

3۔ جو لوگ تنظیم   کو چندہ کے طور پر رقم جمع کراتے ہیں تو ان لوگوں کی طرف سے دی گئی رقم  اگر بطور امانت ہو، تو اِس صورت میں اگر چندہ دینے والے کا انتقال ہوجائے اور اس رقم میں میت کی رقم بھی شامل ہو تو وہ  رقم اس کا ترکہ بن جاتاہےجو چندہ دینے والے (میت)  کے ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم ہوگی، جب کہ کمیٹی والے اس رقم کو بھی میت کے کھانے پر خرچ کرتے ہیں جو شرعاً جائز نہیں۔

4۔ نیز کمیٹی  میں اس شخص کی رقم بھی شامل ہوتی ہے جس کے گھر فوتگی ہوئی ہے، اور اسی رقم سے میت کے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا بندوبست کیا جاتاہے،حالانکہ شریعت نے یہ ذمہ داری میت کے اہل خانہ پر نہیں، بلکہ پڑوس اور اہل محلہ پر ڈال دی ہے۔

5۔اگر رقم دینےوالوں نے رقم  بطور قرض یا ہبہ بشرط العوض دیا ہو جیساکہ عام طور پر یہی مقصد ہوتا ہے تو بھی سود کی وجہ سے ناجائز ہے۔

 لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق مذکورہ  فلاحی تنظیم  مذکورہ بالا قباحتوں کے پیشِ نظر جائز نہیں ہے، اس سے بچنا لازم ہے،البتہ اس کا متبادل حل یہ ہے کہ اگرمندرجہ بالا قباحتوں سے اجتناب کرتے ہوئے اس کمیٹی  کا قیام  وقف کی بنیاد پر ہو،  جس  کا طریقہ یہ ہو گا  کہ ابتداء میں کچھ متبرعین حضرات اپنی طرف سے کچھ رقم وقف کریں  جس پر وقف فنڈ قائم ہوجائے۔پھر ممبران  اس فنڈ کو رقم دیا کریں وہ رقوم اس وقف فنڈ کی ملکیت ہوگی ۔واقفین جو اس فنڈ کے لیے اول مرتبہ رقوم وقف کرتے ہیں وہ شرائط اور طریقہ کار وضع کرلیں اور بہتر یہ ہے کہ تحریری شکل میں محفوظ کرلیں کہ اس وقف سے کس کے ساتھ کس حد تک کن شرائط کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ نیز اس کے لئے متولی بھی مقرر کریں ۔  چندہ دہندہ کو اپنی رقم واپس لینے کا حق حاصل نہ ہوگا ، چناچہ کسی ممبر کے لیے واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہ ہوگا    ۔انتظامیہ کی حیثیت متولی کی سی ہوگی جس کا کام شرکاء کے لیے موقوفہ رقم پر قبضہ کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ،اور وضع کردہ اصولوں کے تحت اس فنڈ سے خرچ کرنا ہوگا ۔اراکین کمیٹی اس کے مالک بھی نہ ہونگے۔

 

عن عبد اللّٰه بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلی اللّٰه علیه وسلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاماً فإنه قد جاء هم ما یشغلهم. قال أبو عیسی: هذا حدیث حسن صحیح، وقد کان بعض أهل العلم یستحب أن یوجه إلی أهل المیت شيء لشغلهم بالمصیبة.(السنن للترمذي،أبواب الجنائز، باب ما جاء في الطعام یصنع لأهل المیت، ج:1،ص:320)

عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه.(المسند للإمام أحمد،رقم الحدیث:20714،ج:5،ص:72)

مطلب في کراهة الضیافة من أهل المیت وقال أیضاً ویکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهه بدعة مستقبحة، وروی الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحیح عن جریر بن عبد اللّٰه قال: کنا نعد الاجتماع إلى أهل المیت وصنعهم الطعام من النیاحة الخ(رد المحتار على الدر المختار.کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج:2،ص:240)

قال ابن عابدین :لایخفی علیک ان المفتی بہ الذی علیہ المتون جواز وقف المنقول الممتعارف ۔وقد صحح العلماء وقف الماء مع انہ منقول ،ویہلک بالاستھلاک ،فالنقود مثلہ بل اولی ،فان النقود مال بالاصالۃ والماء مال بالتقویم والحیازۃ۔

قال ابن عابدین ؒ:ان الدراھم لاتتعین بالتعیین فھی وان کانت لا ینتفع بھا مع بقاء عینھا لکن بدلھا یقوم مقامھا لعدم تعیینھا فکانھا باقیۃ۔القول بجواز وقف النقود اقوی من حیث القیاس ،وانفع للعباد والمنع فیہ تضییق لباب من ابواب الخیر،دون دفع مفسدۃ تخشی۔

وأن ‌وقف ‌المنقول لا يجوز، وإن كان مضافا إلى ما بعد الموت، وهو قول أبي يوسف، فأما عند محمد ‌وقف ‌المنقول جائز فيما هو متعارف بين ذلك في السير الكبير وروى فيه أن ابن عمر - رضي الله عنه - مات عن ثلثمائة فرس ونيف ومائتي بعير مكتوب على أفخاذها حبس لله - تعالى - فجوز ذلك استحسانا(المبسوط للسرخسي،باب الوصية بالغلة،ج:27،ص:190)

(وعن محمد جواز وقف ما جرى فيه التعامل كالفأس والقدوم والمنشار والقدور والجنازة والمصاحف والكتب) لوجود التعامل في هذه الأشياء، وبالتعامل يترك القياس كما في الاستصناع، قال - عليه الصلاة والسلام -: «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن» ، (بخلاف ما لا تعامل فيه) كالثياب والأمتعة ; لأن من شرط الوقف التأبيد كما بينا تركناه في السلاح والكراع بالنص، وفيما جرى فيه التعامل بالتعامل فبقي ما وراءه على الأصل (والفتوى على قول محمد) لحاجة الناس وتعاملهم بذلك.(الاختيار لتعليل العليل المختار،باب الوقف،ج:3،ص:42)


فتویٰ نمبر : 5705/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور