بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سگریٹ اور نسوار کے کاروبار حکم


سوال

سگریٹ اور نسوار کے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یانہیں؟

جواب

 کھانے پینے کی اشیاء میں اصل اباحت ہے،جب تک کسی چیزکے بارے میں نص قطعی سے حرمت معلوم نہ ہو اس وقت تک حرمت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا ،البتہ اگر نص قطعی سے کسی چیز کی حرمت معلوم ہوجائےتو پھر نا جائز اور حرام ہوگا۔

سگریٹ نوشی صحت انسان کے لیے مضر اور بے شمار بیماریوں کا پیش خیمہ ہونے کے ساتھ ساتھ مال کا ضیاع اور دوسروں کے لیے باعث ضررہے ،اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے ،تاہم اس پر حرام کا حکم نہیں لگایا جاسکتااورنسوار بھی ماہرین طب کی تحقیقات کے مطابق ،چونکہ دانتوں اور مسوڑوں کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف بهی پہنچتی ہے ،اس لیے اس کا استعمال بھی کراہت سے خالی نہیں ،تاہم اس کے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی  حلال ہے۔

 

قلت: وألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان، وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره، بل ثبت له منافع، فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي.(رد المحتار على الدر ؒختار،كتاب الأشربة،ج:6،ص:459)

مطلب ‌المختار أن الأصل في الأشياء الإباحة أقول: وصرح في التحرير بأن المختار أن الأصل الإباحة عند الجمهور من الحنفية والشافعية(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطهارة،سنن الوضوء ج:1،ص:155)

وبالجملة إن ثبت في هذا الدخان إضرار صرف خال عن المنافع فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه ‌فالأصل ‌حله ‌مع ‌أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين فإن أكثرهم مبتلون بتناوله مع أن تحليله أيسر من تحريمه وما خير رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بين أمرين إلا اختار أيسرهما.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،ج:2،ص:332)


فتویٰ نمبر : 3477/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور