بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

خاندان کے افراد کا رقم بطور قرض لے كر اس پر خرچ كرنا


سوال

 اپنے خاندان کے افراد(والد،والدہ،تین بیٹےاور ایک بیٹی) کابیس لاکھ روپے بطور قرض لیااورساتھ میں دس سال تک ان پر خرچہ بھی کیا تو اب خاندن کے افراد کو رقم واپس کرنے کی صورت میں ان کو پوری رقم  دی جائے گی یا جو رقم  ان پر خرچ کی ہے  اس کو منہا کرے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کی ادائیگی مقروض کے ذمے واجب ہوتی ہے۔ نیز آدمی پر اپنے بیوی اور نابالغ بچوں کی کفالت اور نان نفقہ بھی لازم ہوتاہے۔

صورت مسؤلہ میں  خاندان کے افراد سے لی گئی قرض  رقم کی ادائیگی  سائل کے ذمے لازم ہے ۔ان کے  نفقہ میں خرچ کی گئی رقم قرض سے منہا نہیں کی جاسکتی ۔  اگراپنے  خاندان کے بالغ افراد تبرع کرکے مکمل قرض معاف کرنا چاہیں یا قرض میں سے کچھ حصہ معاف کریں تو اس کی گنجائش ہوگی۔

 

تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها .(الهندية، ج:1، ص:544)

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد...ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال...ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز.(الفتاوى الهندية،ج:1  ص:560)

ولاخلاف في وجوب النفقة في قرابة الولادة وأمانفقة الوالدين فلقوله عزوجل{وقضى ربك ألاتعبدواإلا إياه وبالوالدين إحسانا}[الإسراء:23] أي:أمرربك وقضى أن لاتعبدواإلاإياه.أمر سبحانه وتعالى ووصى بالوالدين إحسان،والإنفاق عليهماحال فقرهمامن أحسن الإحسان.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:4، ص:30)

‌القرض ‌هو ‌عقد ‌مخصوص يرد على دفع مال مثلي لرد مثله وصح في مثلي لا في غيره فصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، ج:2، ص:82)


فتویٰ نمبر : 5711/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور