بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
نصاب کے بقدر مال موجود نہ ہونے کی صورت میں زکوۃ لینا
سوال
ایک شخص کے پاس اپنا ذاتی ڈیڑ ھ تو لہ سونا ہواسی طرح وہ گھر کے بھی ایک حصہ کامالک ہو گزارے حال زمین کابھی ایک پلاٹ کھیتی باڑی کےلیے ہو لیکن ان سب کے باجود وہ خود کمانے کی بالکل بھی صلاحیت نہ رکھتا ہو انتہائی معذوری کی بناء پر ہاتھ پاوں کام نہ کرتے ہو ،آنکھوں کی بینائی بھی نہیں ہے اس كے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے ساتھ بال بچے بھی ہو ں توکیا ان سب اعذار کی بناء پر اگر چہ سونا بھی موجود ہو تولوگ اگر اس کو زکوۃ دینا چاہیں تو وہ وصول کرسکتا ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ جب کسی کے پاس سونا ،چاندی،نقد رقم ، یاسامان تجارت ہو اور وہ بقدر نصاب بھی ہو تو سال گزرنے پر زکوۃ واجب ہوتی ہے ۔لیکن اگر نصاب پورا نہ ہو تو زکوۃ لازم نہیں ہوتی ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کے پاس دو تولہ سونے کے علاوہ ساڑھے اڑتیس تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر نقدرقم یا ضرورت سے زیادہ سامان موجود نہ ہو تو اس کےلیے زکوۃ لینا جائز ہے اور اگر دو تو لہ سونے کے علاوہ ساڑھے اڑتیس تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر رقم یا ضرورت سے زیادہ سامان موجود ہو تو ا س کےلیے زکوۃ لینا جائز نہیں البتہ نفلی صدقات لے سکتا ہے۔
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة ،ج:1،ص:189ّ)
فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال.(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،ج:2،ص:410)
ويضم الذهب إلى الفضة، والفضة إلى الذهب ويكمل إحدي النصابين بالآخر عند علمائنا...ثم قال أبو حنيفةؒ:يضم باعتبار القيمة ...وقال أبويوسفؒ ومحمدؒ:يضم باعتبار الأجزاء يعني بالوزن.(الفتاوى التاتا رخانية،كتاب الزكوة،ج:3،ص:157)