بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
والدين کی نافرمانی کاحکم
سوال
اولاد پر اپنے والد کی اطاعت کس حد تک ضروری ہے ؟ اور نافرمانی کی صورت میں شریعت میں اس کے لیے کیا حکم ہے ،اور اگر وہ اسی نافرمانی کی حالت میں مرجائیں تو کیا ان کی بخشش ہوگی ؟
جواب
واضح رہے کہ اولاد پر ان تمام امور میں والدین کی اطاعت ضروری ہے جن کی بجاآوری میں شریعت کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہو ۔ نیز والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا شرعاً ضروری ہے، ان کی نافرمانی اور ایذا رسانی حرام اورکبیرہ گناہ ہے، قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی خدمت کی بڑی تاکید آئی ہے، اور والدین کی نافرمانی، ان کے ساتھ بدکلامی کے ساتھ پیش آنے، اور والدین کو ستانے کی بہت وعید آئی ہے، ایک حدیث شریف میں ہے :کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ دونوں تیری جنت یا دوزخ ہیں۔ (یعنی ان کی اطاعت و خدمت جنت میں لے جاتی ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی جہنم میں لے جاتی ہے)۔ لہذا اولاد کے لئے والدین کو تکلیف دینا یا ان کی نافرمانی کرنا جائز نہیں ۔
قال الله تعالى :{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ً وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَبَّيَانِي صَغِيرًا} [الإسراء: 23، 24]
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ أَصْبَحَ مُطِيعًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا. وَمَنْ أَمْسَى عَاصِيًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ النَّارِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا» قَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ ظَلَمَاهُ؟ قَالَ: «وَإِنْ ظلماهُ وإِن ظلماهُ وإِنْ ظلماهُ»( مشكاة المصابيح،ج:3،ص:1386،رقم الحدیث:4943)
عن أبي أمامة، أن رجلا قال:يارسول الله،ماحق الوالدين على ولدهما؟ قال: «هماجنتك ونارك».(سنن ابن ماجه، باب البرالوالدین،ج:ص:2،1208،رقم الحدیث:3662)