بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
ماں کی غفلت کی وجہ سے چھوٹی بچی کے فوت ہونے پر کفارہ کا حکم
سوال
اگر کسی عورت کی بچی جھولے میں پڑی ہو اور صبح اٹھ کر وہ اپنی بیٹی کواوندھے منہ جھولےمیں پڑی پائے اور فوت بھی ہوگئی ہو تو کیا اس عورت پر اپنی بیٹی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے کفارہ لازم آئیگایا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص پر کفارہ قتل قتل خطاء ،شبہ خطاءاور شبہ عمد کی صورت میں لازم ہوتاہے اس کے علاوہ صورتوں میں کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ بچی کی موت مذکورہ اقسام میں سے کسی میں داخل نہیں بلکہ بچی اپنی موت مری ہے ۔ لہذا ماں پر کفارہ لازم نہیں ۔
قال:(وشبهه، وهو أن يتعمد ضربه بغير ما ذكر، الإثم والكفارة... والخطأ، وهو أن يرمي شخصا ظنه صيدا أو حربيا فإذا هو مسلم أو غرضا فأصاب آدميا أو ما جرى مجراه كنائم انقلب على رجل فقتله الكفارة والدية على العاقلة) أي موجب قتل الخطأ وموجب ما جرى مجرى الخطأ الكفارة والدية على العاقلة.(تبيين الحقائق،كتاب الجنايات،ج:6،ص:99)