بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سرکاری مال کی خریدوفروخت


سوال

گورنمنٹ کی طرف سے ایک افسر کو عوام کیلئے سولر اوربیٹری وغیرہ سامان مہیا کیا جائے۔افسر سامان کو عوام پر تقسیم کرنے کی بجائےاپنا سمجھ کر اپنے پاس رکھے دیگرافسرکو اطلاع ملنے پروہ سامان  ضبط کرکے اپنے قبضہ میں لے لے پھر اس کو فروخت کرنا چاہےتو کیا اس سے  مال خریدنا جائز ہے جبکہ خریدنے کی صورت میں نہ اس سامان کے پیسے خزانہ میں جمع ہوتے ہیں اور نہ ہی عوام کے کام میں آتے ہیں بلکہ سرکاری افسر کے جیب میں جاتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ اس ضبط شدہ مال کو افسر سے خریدنا جائز ہےکہ نہیں ؟

جواب

سرکاری اموال سے چونکہ اجتماعی  مفادات  وابستہ ہوتے ہیں اس لئے کسی شخص کے لئے شرعاً یہ جائز نہیں ان کو اپنےذاتی مفاد میں استعمال کرے۔ گورنمنٹ کی طرف سے عوام کے لئے جن سہولیات کا انتظام کیاجاتا ہے ان کی قیمت سرکاری خزانے سے  اداہوتی ہے اس لئے یہ اشیاء سرکار ہی ملک ہیں اس لئے جو شخص سرکارکی طرف سے مجاز نہ  ہو اس کی اجازت  معتبر نہیں، نیزجس شخص کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ اس کے پاس غصب یا چوری کامال ہے تواس سے وہ چیز خریدنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق  جس افسر نے سولر اور بیٹری کو ضبط کیا ہے  اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ مال اپنے مصرف تک پہنچائے یا گورنمنٹ کو واپس کردے، نیز یہ مال چونکہ اس کی ملکیت نہیں ہے اس لئے اس کو بیچنا جائز نہیں  نیز جس کو اس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ یہ سرکاری مال ہے اس کے لئے اس کو خریدنا جائز نہیں ۔

 

والحاصل ‌أنه ‌إن ‌علم ‌أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه.( رد المحتار على الدر المختار، ج:5، ص:99)

‌فكل ‌عين ‌قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي.(الهندية، ج:5، ص:364)


فتویٰ نمبر : 5719/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور