بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
تحریری طلاق کے ساتھ ان شاءاللہ لکھنا
سوال
اگر کوئی شخص زبان سے طلاق نہ دے اور نہ ہی دل میں طلاق دینے کی نیت ہوبلکہ ایسی تحریر پر جو اس نے نہ لکھی ہو اور نہ لکھوائی ہواس پر دستخط کرتے وقت متصلا ان شا اللہ بول دے یا دستخط کے ساتھ متصلا ان شا اللہ لکھ دے تو کیا واقعی ایسا کرنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی؟
جواب
زبان سے یا تحریری طور پر طلاق دیتے وقت اگر کوئی شخص متصلاً ان شاء اللہ کہہ دے یا لکھ دے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگرکوئی تحریر شوہرنے نہ لکھی ہو اورنہ لکھوائی ہواوراس پر دستخط کےوقت شوہرکاطلاق دینے کا کوئی ارادہ نہ ہو نیزاس کے ساتھ ان شاء اللہ لکھ لے یا زبان سے ان شاءاللہ کہہ دےتواس صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
ولو كتب إليها أما بعد فأنت طالق ثلاثا إن شاء الله تبارك وتعالى موصولا بكتابته لا تطلق وإن كان مفصولا تطلق كذا في الظهيرية.(الفتاوى الهنديه،كتاب الطلاق،الفصل السادس،ج:1،ص:378)
(قوله وإذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله إلخ) وكذا إذا قال: إن لم يشأ الله أو ما شاء الله أو فيما شاء الله أو إلا أن يشاء الله أو إن شاء الجن أو الحائط وكل من لم يوقف له على مشيئة لم يقع إذا كان متصلا فلا يفتقر إلى النية، حتى لو جرى على لسانه من غير قصد لا يقع. (فتح القدیر، کتاب الطلاق، فصل في الاستثناء، ج:4، ص:136)