بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کاحکم


سوال

ایفیلئیٹ مارکیٹنگ حلال ہے  یا حرام؟ جو آج کل بہت زیادہ مروج ہیں۔

جواب

ایفیلئیٹ مارکیٹنگ کے حوالے سے جو تفصیلات معلوم ہوئی ہیں ، اس کے مطابق ایسے لوگ جو بذات خود سرمایہ کاری نہیں کرسکتے ، ان کو دیگر سرمایہ کاروں کی طرف سے فروختگی کے لیے فراہم کردہ اشیاء کے لنکس فراہم کردیے جاتے ہیں، جنہیں ایفیلئیٹ ممبرز مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرکے ان اشیاء کی تشہیر کرتے ہیں۔ پھر جس ممبر کے لنک کے ذریعے وہ اشیاء فروخت ہوں، اس کو کمیشن دیا جاتا ہے۔

اس لحاظ سے ایفیلئیٹ ممبر کی حیثیث دلال کی ہوتی ہے۔ لہذا اس کو اپنے عمل کے بدلے جوکمیشن (اجرت ) ملے گا، وہ اس کے لیے لینا جائز ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ کمیشن پہلے سے طے ہو، اور اس میں کسی قسم کی جہالت نہ ہو۔

 

مطلب في ‌أجرة ‌الدلال: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل... وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه. (رد المحتار على الدر المختار، ج:6، ص:63، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 5747/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور