بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
قصاص میں قاتل کی بجائے دوسرے شخص کو قتل کرنا
سوال
قبائلی علاقہ جات میں یہ رواج ہے کہ اگر خاندان کا کوئی بڑا قتل کرے تو یہ دشمنی اس کی وفات کےبعد اس کے بیٹوں کو منتقل ہو جاتی ہے یا ایک کے بدلے دوسرے بھائی کو قتل کیا جاتا ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ جنایت کرنے والے مجرم کے ساتھ وہی معاملہ کرناجو اس نے کیا تھاقصاص کہلاتاہے۔نیزحدود اور قصاص جاری کرنے کا اختیار قاضی اور حاکم کے پاس ہے،کوئی شخص انفرادی طور پر انہیں جاری نہیں کرسکتا۔
لہذا صورت مسئولہ میں خاندان کاکوئی بڑا اگر قتل کرے تو اس کی وفات کے بعد اس کے بچوں سے دشمنی کرنا یا اس کے بھائی کو قتل کرناجائزنہیں کیونکہ قصاص قاتل ہی سے لیا جاسکتاہے اس کے بھائیوں یا بیٹوں سے نہیں لیاجاسکتا،نیزقصاص جاری کرنےکےلیےمقتول کےاولیاء عدالت سے رجوع کرکے اس کے ذریعے قصاص حاصل کریں گے خود قصاص لینے کی اجازت نہیں۔
القصاص أن يفعل بالفاعل الجاني مثل مافعل.(التعريفات للجرجاني،ماده قصاص،رقم:1138،ص:124)
فيشترط الإمام لاستيفاء الحدود۔ (رد المحتار على الدر المختار ،ج6 ، ص549)
ألا ترى أن الإمام يملك أمورا لا تملكها الرعية وهي إقامة حدود۔ (بدائع الصنائع ، فصل في (ثم) الكلام في الاستخلاف في مواضع ، ج1 ، ص224)