بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صاحب نصاب كو زكوة یاعشردینا


سوال

کیا امام مسجد یا دینی مدرسہ کے مدرس عالم دین کو جو کہ نصاب کا مالک  ہو زکوة ،عشر یا صدقہ دے سکتے ہیں  یا نہیں ؟

جواب

زکوۃ،عشر یا صدقہ واجبہ کسی ایسے شخص کو دینا ضروری ہےجس کے پاس ضرورت سے زائد اتنا مال یا سامان موجود نہ ہو، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہو، اور وہ سید یا ہاشمی نہ ہو۔

صورت مسئولہ میں امام مسجد یا دینی مدرسہ کا مدرس عالم دین اگر نصاب کا مالک ہوتو اس کو  زکوۃ ،عشر یا صدقہ واجبہ نہیں دیا جاسکتا ،البتہ صدقہ نافلہ دیا جاسکتا ہے ۔

 

قال اللّٰہ تعالیٰ:(إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء ِوَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْہَا).(سورہ توبہ: ٦)

لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان.(الھندیۃ، کتاب الزکاۃ،ج:1،ص:189)

باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر، وأما خمس المعدن فمصرفه كالغنائم .(هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار،ج:2،ص:33)

‌وأما ‌صدقة ‌التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة.(بدائع الصنائع،ج:2،ص:43)


فتویٰ نمبر : 9914/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور