بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پانچ تولہ سونا پر زکوٰۃ


سوال

ایک خاتون کے پاس پانچ تولہ سونا ہے اور سونے کے علاوہ اس خاتون کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہے مثلا نقدی وغیرہ... ویسے عام عادت  کے مطابق جیب خرچ کیلئے خاوند ماہانہ یا ہفتہ وار یا روزانہ کچھ رقم دیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت خود یا بچوں پرخاتون خرچ کرے خاتون کی ملکیت میں نقد روپیہ ، سامان تجارت کچھ بھی نہیں ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ خاتون پر زکوٰۃ فرض ہے یانہیں؟نوٹ : مذکورہ خاتون  فی الحال گھر میں کچھ سامان وغیرہ بیچتی ہے چھوٹے بچوں کی مثلا پاپڑ ، چنے، وغیرہ، جبکہ خاتون کے خاوند کا کہنا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ میرا ہے اور نفع ونقصان بھی میرا ہی ہے۔

جواب

جس شخص کی ملکیت میں ساڑهے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی  یا  اتنی نقد رقم ،یا سامان تجارت موجود ہو کہ وہ ساڑھے باون تولہ چاندی  کی قیمت تک پہنچے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے ۔اگر اس سے کم ہو تو پھر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس خاتون کے پاس پانچ تولہ سونا ہے اگراس کے پاس اس کے علاوہ کوئی نقد رقم یا مال تجارت نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔

 

نصاب ‌الذهب عشرون مثقالا، (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه."( ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الزكاة ، ‌‌باب زكاة المال، ج:2 ، ص:295)

‌فأما ‌إذا ‌كان ‌له ‌ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال.( بدائع الصنائع، كتاب الزكاة ، فصل مقدار الواجب في زكاة الذهب، ج:2 ، ص:18)

ومنها كون المال نصابا ‌فلا ‌تجب ‌في ‌أقل ‌منه. (الفتاوى الهندية ، كتاب الزكاة ، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها،ج:1، ص:233)


فتویٰ نمبر : 9920/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور