بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
اس شخص کا زکوۃ لینا جس کی رقم کسی کے ساتھ ایڈوانس میں پڑی ہو
سوال
ایک آدمی کرایہ کے مکان میں رہتا ہے اس نے دو لاکھ روپے ایڈوانس دیے ہیں۔ یہ آدمی غریب ہے بڑی مشکل سے اپنے گھر کا خرچہ چلاتا ہے رکشہ ڈرائیور ہےکیا اس کو زکوۃ دی جا سکتی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ایڈوانس میں دی گئی رقم عام طور پرعقدِ اجارہ فسخ ہونے یا مدتِ اجارہ ختم ہونے کے بعد واپس کرایہ دار کو ملتی ہےاورمالکِ مکان یا مالکِ دکان کو اس رقم کے استعمال کرنے کی اجازت ہو تی ہےلہذایہ رقم شرعاً کرایہ دار کے ذمہ قرض ہوتی ہےاور اس پر قرض والے احکام لاگو ہوتےہیں،چنانچہ جب اس رقم پر سال گزرجائے تو کرایہ دار پر اس کی زکوۃ واجب ہوگی۔
صورت مسئولہ میں دولاکھ ایڈوانس رقم کا حقیقی مالک کرایہ دار ہے اورمالک مکان کے ساتھ یہ رقم بطورقرض پڑی ہےنیز یہ رقم زکوۃ کے نصاب کو بھی پہنچتی ہے لہذا یہ شخص صاحب نصاب شمار ہوگا اور اس کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی ،تاہم اگر اس کی بالغ اولاد یا بیوی ہو اور وہ خودصاحب نصاب نہ ہو تو ان کو زکوۃ دی جاسکتی ہے۔
(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم۔(الدرالمختار ، كتاب الزكوة ، باب زكوة المال، ج: 3 ص: 123)
و أما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام:" لاتحل صدقة لغني"خرج النفل منها؛ لأن الصدقة على الغني هبة،كذا في البدائع."(البحرالرائق،کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:263)