بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلباء كا بغيراجازت كی مدرسہ کی اشیاء کواستعمال کرنا


سوال

ایک مدرسہ کے جملہ طلبا کے نام کوئی صدقے کے طورپر 2 کلو گوشت  لایا جس کو پانچ یا چھ مخصوص طلبا نے چپکے سے کھایا کیا ان طلبا کے لئے اس کا کھانا درست ہے یا نہیں ، اگر درست نہیں تو اس کے ازالہ کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

جواب

مدرسہ کی  اشیاء کے ساتھ تمام طلبا  کا حق وابستہ ہوتا ہے لہذا مدرسہ کی  اشیاء کو اپنے ذاتی استعمال میں لانے سے اجتناب لازم ہے۔

صورت مسؤلہ میں چونکہ گوشت تمام طلباء کے نام آیاہے لہذا چند مخصوص طلبا ء کا اسے چپکے سے لینا تمام طلباء کاحق مارنا ہے  جو شرعاً جائزنہیں اگر کسی نے ایسی  حرکت کی ہوتو اس کےعوض مدرسہ کے فنڈمیں گوشت کی قیمت کے بقدر رقم جمع کرے تاکہ طلبا ءکو ان کا حق پہنچ جائے۔

 

عن أبي حميد الساعدي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل لامرئ أن يأخذ مال أخيه بغير حقه " وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم.(مسند أحمد بن حنبل،ج:5،ص:425،رقم:24003)

ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل(البقرة:188)... الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه.(تفسيرالقرطبي،ج:2،ص:225)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.(ردالمحتار على الدرالمختار،باب التعزير،ج:4،ص:61)

وفي الإسعاف وليس لمتولي المسجد أن يحمل سراج المسجد إلى بيته.(البحرالرائق شرح كنزالدقائق، ج:5، ص:270)


فتویٰ نمبر : 5700/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور