بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
اپنے اثر ورسوخ کی بناء پر ڈاکٹر کا مفت نمبر حاصل کرکے دوسرے شخص سے پیسے لینا
سوال
ایک شخص دیر سے پشاور میں ایک شخص کو فون کرے کہ میرے لیے فلاں ڈاکٹر کا نمبر لےلو اور وہ شخص اپنی اثر ورسوخ کی بناء پر ڈاکٹر کا نمبر مفت میں حاصل کرے تو کیا اس شخص کےلیے اس دوسرے شخص جس کےلیے نمبر لیا ہے اس سے پیسے لینا درست ہے یانہیں؟
جواب
واضح رہےکہ اگر کوئی شخص دوسرے کو کسی کام کا حکم کرے تو یہ دوسرا شخص اس کا وکیل کہلاتا ہے اور وکیل اگر كوئی کام اجرت کے ساتھ کرنے پر مشروط کرے یا وہ اجرت پر کام کرنے کے ساتھ مشہور ہوتو پھر وہ مؤکل سے اجرت لے سکتا ہے لیکن اگراجرت مشروط نہ ہو اور نہ وہ اجرت لینے کے ساتھ مشہور ہو توپھر وہ مؤکل سے اجرت نہیں لے سکتا ۔
صورت مسئولہ میں دیر والے شخص نے پشاور والے شخص کو ڈاکٹر کا نمبر لینے کا وکیل بنایا ہےلہذا اس آدمی نے اگر اجرت کی شرط نہ لگائی ہو اور نہ اجرت پر نمبر لینے کے ساتھ مشہورہوتو اس صورت میں اگر وہ اپنے اثر رسوخ کی بنیاد پر ڈاکٹر کا نمبر فری حاصل کرے گا تو دیر والے شخص سے وہ فیس نہیں لے سکتابلکہ یہ اس کی طرف سے تبرع شمار ہوگا۔اوراگر اجرت لینے کی شرط لگائی ہو یا اجرت پرنمبر لینے کے ساتھ مشہورہو تو پھر اجرت لےسکتاہے۔
"(وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله) ؛ لأن المستحق عملٌ في ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره، بمنزلة إيفاء الدين، والعادة جارية أن الصناع يعملون بأنفسهم وبأجرائهم".(اللباب في شرح الكتاب: كتاب الإجارة ج:2ص: 102)
"وإذا أطلق) المستأجر (العمل للصانع) ولم يقيد بعمله (فله أن يستعمل غيره) كما إذا أمر أن يخيط هذا الثوب بدرهم، فاللازم عليه العمل سواء أوفاه بنفسه أو باستعانة غيره كالمأمور بقضاء الدين".(مجمع الأنهر: كتاب الإجارة، ج:2ص: 374)
(وإن أطلق له العمل) ش: مثل أن يقول: خطْ هذا الثوب أو اصنعه. م: (فله أن يستأجر من يعمله؛ لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره) ش: لأن المقصود هو العمل وقد حصل. م: (بمنزلة إيفاء الدين). ش: فإن الإيفاء يحصل بالمديون وبالتبرع من غيره".(لبناية شرح الهداية: كتاب الإجارة،ج: 10ص: 244)
إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة، أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".(درر الحكام شرح مجلة الأحكام: كتاب الوكالة، الباب الثالث في بيان احكام الوكالة، ج:3ص: 573، رقم المادة(1463)ٰ)