بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عفراءنور نام ركهنا


سوال

عفراء نور نام رکھنا کیسا ہے  ؟اور اس کا معنی  کیا ہے ؟

جواب

اسلامی تعلیمات کے مطابق اولاد کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھا جائے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ" تم  سب قیامت کے دن اپنے اور اپنے والد کے ناموں سے بلائےجاؤ گے، پس  نام اچھے رکھو"۔۔

صورتِ مسئولہ میں  عفراء عربی لفظ ہے،اس کامعنی ہے "سفید زمین" اورمہینہ کی تیرویں تاریخ کی شب کو بھی کہتےہیں،اور ’’نور‘‘کامعنی ہے:روشنی۔نیز''عفراء بنت عبید بن ثعلبہ الانصاریہ''  رضی اللہ عنہا صحابیہ  ہے ،اس لیے ان کی نسبت سے  یہ نام رکھنا درست اور باعث برکت ہے ۔

 

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا  أسماءكم ". (مسند أحمد، ج:36، ص:23، رقم الحديث:21293، )

‌عفراء۔مؤنث أعفر.[ع ف ر]:الأرض البيضاء:الليلة الثالثة عشرةمن الشهر.(محيط المحيط،ج:6،ص 227)

عفراء ‌بنت ‌عبيد بن ثعلبة بن سواد بن غنم بن مالك بن النجار الأنصارية أم معاذ ومعوذ وعوف، وبها تعرف أولادها، وكلهم من الأنصار.(اسدالغابۃفی معرفۃ الصحابۃ،عفراء بنت عبید،ج:7،ص:194)

والنُّوْرُ: الضِّيَاءُ(المحيط في اللغة،ج:10،ص:250)


فتویٰ نمبر : 5698/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور