بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
واپڈا کے تاروں اور کھمبوں کو بجلی کی فراہمی کے لیے استعمال کرنا
سوال
ایک علاقے میں بجلی کی فراہمی کے لئے سرکاری ادارے واپڈا کی بچھائی ہوئی لائن جوکہ تقریبا سات سال سے بے کار پڑی ہے ، اس میں بجلی کی ترسیل مکمل بند ہوچکی ہے ، بیچ میں سے کھمبوں اور تاروں کو اتاردیا گیا ہے ،اور واپڈا نےاپنے میٹروں کو ہٹا دیا ہے ،اور بغیر کسی ضروری قانونی کاروائی کے بقیہ لائن بے کار چھوڑدی ہے ،چونکہ ہمارا علاقہ ایک پسماندہ علاقہ ہے، اور دور دراز دیہاتی بلکہ خیبر پختون خواہ کامشکل گزار پہاڑی علاقہ ہے ،اب خیبر پختون خواہ حکومت نے کسی نجی تنظیم کی معاونت سے علاقائی سطح پر چھوٹے ،چھوٹے جزیٹر لگائے ہیں،جو پانی کی مدد سے چلتے ہیں ،اور ان سے کچھ بجلی پیدا ہوتی ہے،اور کسی نہ کسی درجے میں علاقائی ضرورت پوری کرتی ہے ، اب مقامی لوگوں نے جمع ہوکر بجلی کی ترسیل کے لئے واپڈا کی اجازت کے بغیر واپڈا کی بچھائی ہوئی وہی معطل سپلائی لائن سے کھمبے اور تار اتار کر انہی تاروں او کھمبوں کو استعمال کرکے اپنے لئے پانی کے جزیٹر سے بجلی لگائی ہے ،اور یہ جواز پیش کیا کہ چونکہ یہ اسی علاقے کے لئے مختص تھے ، جس سے اہل علاقہ کو فائدہ کوئی نہیں تھا ، اور لائن بھی ناکارہ معطل شدہ تھی ، اب اگر وہی تاراور کھمبے ان سے بن پوچھے سب لوگوں کی اتفاق رائے سے اسی علاقے کے لئے حکومت ہی کی مہیا کئے ہوئے پانی والے جزیٹر سے بجلی کی ترسیل کے لئے استعمال ہو تو کیاحرج ہے ؟بہر حال اب پوچھنا یہ ہے کہ:1۔ واپڈا کی اجازت کے بغیر ان تاروں اور کھمبوں کو اسی محلہ کے لوگوں کے لیے استعمال کرنا درست ہے یانہیں ؟2۔متعلقہ محکمہ کی اجازت سے درست ہے یانہیں؟3۔ اگر درست نہیں تو بدرجہ مجبوری یعنی اور کوئی صورت نہ ہو بجلی ملنے کی تو اس کی گنجائش ہوگی یانہیں؟
جواب
واپڈا ايک سرکاری محکمہ ہے ، واپڈا کا مال حکومت کی ملکيت ہے،اگر حکومت نے کسی علاقے میں بجلی فراہم کی لیکن بعد میں کسی وجہ سے منقطع ہوگئی ، اور اس کے بعد اب حکومت نے دوسرے ذریعے سے بجلی کی فراہمی شروع کی ،تو ایسی صورت میں اگر متعلقہ ادارہ صراحت کے ساتھ اس پرانے لائن کے استعمال سے منع نہ کرے ، تو اہل علاقہ کے اجتماعی مفاد میں اس کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے ، کیونکہ سات سال تک ان تاروں اور کھمبوں کو علاقے میں رہنے دینا ،اور بعد میں دوسرے ذرائع سے بجلی کی فراہمی بظاہر اس بات کی دلیل ہے کہ اہل علاقہ کے لئے ان تاروں اور کھمبوں کےاستعمال کی حکومت کی طرف سے اجازت ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ سرکاری تاروں اور کھمبوں کو اجتماعی مفاد کے لیے بجلی کی فراہمی میں ہی استعمال کیا جائے اس کے علاوہ ذاتی استعمال میں نہ لایا جائے جو کہ ناجائز ہے۔
(لا عبرة للدلالة في مقابلة التصريح) لأن دلالة الحال في مقابلة التصريح ضعيفة، فلا تعتبر مقابلة للتصريح القوي. (دررالحكام في شرح مجلة الأحكام، لا عبرة للدلالة في مقابلة التصريح ، المادة:13، ج:1، ص:31 )
الإذن دلالة كالإذن صراحة. بيد أنه عند وجود النهي صراحة لا اعتبار بالإذن دلالة. مثلا إذا دخل رجل بيت آخر فهو مأذون دلالة بشرب الماء بالإناء المخصوص له. وإذا سقط من يده وهو يشرب وانكسر لا يلزم الضمان. ولكن إذا أخذه بيده مع أن صاحب البيت نهاه بقوله: لا تمسه فسقط وانكسر يصير ضامنا. (مجلة الأحكام العدلية، ص: 146،المادة :772)
(ويثبت) الإذن (صريحا) كما إذا قال لعبده أذنت لك بالتجارة (ودلالة بأن رأى عبده يبيع ويشتري فسكت) ولم يمنعه منه فسكوته إذن له في التجارة. (مجمع الأنهر، كتاب المأذون، ج:2، ص:446)