بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کی غیر موجودگی میں طلاق دینا


سوال

میں سعودی عرب میں مزدوری کرتا ہو ں میں  نے اپنی  بيوی کو فون کیا اور فون میں کسی بات پر تکرار ہوا،  مجھے غصہ آیا  فون بند کرکے ميں نے  کہا  تجھے طلاق ہے کیا اس سے طلاق واقع ہوئی ہے؟ جبکہ میری بیوی نے یہ الفاط نہیں سنے ۔

جواب

طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے اس كا سامنے موجود ہونا يا الفاظ طلاق كو سننا ضروری نہيں،   لہذا اگر کوئی بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کرے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے ،چاہے  طلاق دیتے وقت بیوی سامنے موجود ہو یا نہ ہو۔بیوی کی عدم موجودگی سے طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں  پڑتا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے اپنی بیوی کی طرف نسبت کرکے مذکورہ الفاظ "تجھے طلاق ہے " کہے ہوں ،تو اس سے طلاق واقع ہوئی ہے اگر ایک مرتبہ کہا ہو تو ایک طلاق واقع ہوئی ہے ۔

 

(وإذا أضاف الطلاق إليها) كأنت طالق (قوله كأنت طالق) ‌وكذا ‌لو ‌أتى بالضمير الغائب أو اسم الإشارة العائد إليها أو باسمها العلمي ونحو ذلك.( رد المحتارعلى الدر المختار،باب صريح الطلاق،ج:3،ص:256)


فتویٰ نمبر : 6843/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور