بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ریلوے لائن کی زمین قبضہ کرنا


سوال

سرکاری زمین (ریلوے لائن کی) کو حکومت کی اجازت کے بغیر قبضہ کرنا یا اس پر تعمیر کرکے رہائش اختیار کرنا یا اس کو  کرایہ پر دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کی ملکیت   پر بغیر اجازت کے  قبضہ کرنا ناجائز اور  حرام ہے۔ لہذا صورت مسئولہ  میں چونکہ ریلوے لائن کی   زمین حکومت کی ملکیت ہے ، اس لیے  حکومتی اجازت کے بغیر اس کو قبضہ کرنا یا  اس میں  تصرف  کرنا  ،  مکان تعمیر کرنا، اس میں رہائش اختیار کرنا یا کرایہ پر دینا اور اس کا کرایہ وصول کرنا  یہ سب نا جائز  ہے۔

 

"عن ‌سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل : أنه «خاصمته أروى في حق زعمت أنه انتقصه لها إلى مروان فقال سعيد: أنا أنتقص من حقها شيئا أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ‌من ‌أخذ ‌شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."( صحیح البخاری،كتاب بدأ الخلق،باب ماجاء فى السبعين،ج:4، ص:107،الرقم:3198)

" لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملك ‌الغير ‌بلا ‌إذنه.لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي".(شرح المجلة،‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص:27،المادة:96،97)


فتویٰ نمبر : 5682/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور