بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
مستحق کو نصاب کے بقدر زکوٰۃ دینا
سوال
ايک خاندان كے 8 مالدار افراد ہیں، جن کی زکوٰۃ تقریباً 6 لاکھ روپے بنتی ہے۔چنانچہ یہ افراد اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کو وہ زکوٰۃ کی رقم دینا چاہتے ہیں جو کہ مستحق زکوٰۃ ہےتاکہ وہ اس پر کاروبار شروع کرسکے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ، کیا اس سے ان لوگوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب
کسی مستحق شخص کو اتنی مقدار میں زکوٰۃ کی رقم دینا کہ اس سے وہ شخص خود صاحب نصاب بن جائے ،مکروہ ہے ۔تاہم یکمشت دینے کی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی ہوجاتی ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایک خاندان کے افراد کسی رشتہ دار کو کاروبار شروع کرنے کی غرض سے یکمشت چھ لاکھ روپے زکوٰۃ کی مد میں دینا چاہیں تو اس سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی البتہ جب مستحق کو ایک مرتبہ اتنی مقدار میں زکوٰۃ دے دی جائے کہ اس سے وہ صاحب نصاب بن جائے تو اسے مزید زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔
"ويكره لمن عليه الزكاة أن يعطي فقيرا مائتي درهم أو أكثر ولو أعطى جاز وسقط عنه الزكاة في قول أصحابنا الثلاثة".(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،ج:2،ص:48)
(قوله وكره الإغناء وندب عن السؤال) أي كره أن يدفع إلى فقير ما يصير به غنيا…".(البحر الرائق،كتاب الزكاة،باب مصرف الزكاة،ج:2،ص:268)
"(وكره الإغناء) أي جاز إعطاء مائتي درهم فصاعدا مع الكراهة؛ لأن الأداء يلاقي الفقر؛ لأن الزكاة إنما تتم بالتمليك والمدفوع إليه في حالة التمليك فقير وإنما يصير غنيا بعد تمام التمليك فيتأخر الغني عن التمليك ضرورة لكنه يكره لقرب الغني منه كمن صلى وبقربه نجاسة".(درر الحكام،كتاب الزكاة،باب مصارف الزكاة،ج:1،ص:192،191)