بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نہری پانی سے سیراب شدہ زمین میں عشر


سوال

ہمارے ہاں زمینوں کی آب پاشی کا نظام کچھ اس طرح ہے کہ نہروں سے نالیوں کے ذریعے پانی زمینوں کے حدود تک پہنچا یا جاتا ہے ، یہ نالیاں بعض جگہ پکی ہیں اور بعض جگہ کچی ہیں، پھر اپنی زمین کے مختلف مقامات پر پانی کا بند لگانا پڑتا ہے کیونکہ بغیر بند لگائے پانی کی رسائی زمین کے مختلف حصوں تک عموما نہیں ہوسکتی نیز پانی کی قلت کی وجہ سے ہر وقت پانی میسر بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایک ہی نالی کے ساتھ بہت سارے لوگوں کی زمینیں منسلک ہوتی ہیں اس لئے پانی کو باریوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ باری کبھی دن کو آتی ہے اور کبھی رات کو اس لیے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے  بالخصوص اگر رات کے وقت باری آجائےتو سیرابی کے عمل میں مشقت مزید بڑھ جاتی اور 10 کنال کی زمین تقریبا 5 گھنٹے یا اس سےبھی زیادہ وقت میں سیراب کی جا سکتی ہےبلکہ بعض مقامات پر پانی کی قلت کی وجہ سے براہ راست نالیوں کے ذریعے زمین کی سیرابی ممکن نہیں ہوتی اس لئے پانی کو پہلے ایک تالاب میں جمع کیا جاتا ہے پھر وہاں سے جمع شدہ پانی سے زمینیں سیراب کی جاتی ہیں ان تمام مراحل سے گزر کر ایک آدمی اپنی زمین سیراب کرتاہےاس عمل کی مشقت  کا اندازہ وہی آدمی لگا سکتا ہے جو براہ راست آب پاشی کے اس نظام سے منسلک ہے تواب سوال یہ ہے کہ مذکورہ زمین کی پیداوار میں عشر واجب ہے یا نصف عشر؟

جواب

واضح رہے کہ عشر کی تعیین میں اصل علت پانی کی نوعیت ہے یعنی پانی کی وجہ سے سیرابی میں پیش آنے والی محنت و مؤنت کو دیکھ کر عشر یا نصف عشر کا حکم لگایا جائے گا۔ اس وجہ سے اگر زمین بارش یا قدرتی چشموں سے سیراب کی جاتی ہو تو اس میں عشر واجب ہوگا اور اگر پانی محنت یا قیمت سے حاصل ہوتی ہو  تو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب  زمین کی آب پاشی  نہر  سے کی جاتی ہو  اور سیرابی کے لئے باری مقرر کرکے نالے کے ذریعے نہر سے پانی  کھیتوں میں آکر سیراب کرتاہو،اور سیرابی کے اس عمل میں محنت اور مشقت اٹھانی پڑتی ہوتو ایسی صورت میں اس میں نصف عشر واجب ہوگا۔

 

تجب العشرفي(مسقى سماء)أي مطر(وسيح)كنهر...(و)يجب(نصفه في مسقى غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة. قوله:(لکثرةالمؤنة) علة لوجوب نصف العشرفيما ذكر...ولو رفعت المؤنة كان الواجب واحداً،وهوالعشر داىٔماً. (ردالمحتار،كتاب الزكوٰة،باب العشر،ج:3،ص265-269)


فتویٰ نمبر : 9913/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور