بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
ایپ پر کاروبار کرنا
سوال
موبائل فون میں ایک ایپ ہے جب ہم اس کو استعمال کرتے ہیں تو اس میں پہلے آئی ڈی بناتے ہیں پھر اکاؤنٹ بناتے ہیں جب اکاؤنٹ بنتا ہے تو 100ڈالر پہلے اکاؤنٹ میں جمع کرنا پڑتا ہے پھر اس میں ایک سٹور کھل جاتا ہے اور اس میں ہر قسم اشیاء آپ کو دکھائے جاتے ہیں مثلاً گھڑی، موبائل فون وغیرہ اشیاء اور ہرچیز کی قیمت مختلف ہوتی ہے مثال طور ایک چیز 20ڈالر پر ہے جب آپ اس کو فروخت کرتے ہیں تو 22 ڈالر پر فروخت کرینگے یعنی 2ڈالر آپ کا منافع ہوگا تو ایسے ایپ پر کاروبار کرنا شرعا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہےکہ خرید و فروخت کے جائز ہونے کی بنیادی شرطوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مبیع (جس چیز کو بیچا جارہا ہے) حقیقت میں موجود ہو، اور وہ مالِ متقوم ہو، محض فرضی چیز نہ ہو،اور خریدنے کے بعد اس پر قبضہ کرکے ہی آگے فروخت کیا جاسکتا ہو ۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ ایپ میں جن اشیاء کی خرید وفروخت ہوتی ہے پہلے توفروخت کنندہ کے پاس ان اشیاء کے موجود ہونے کا کوئی قطعی علم نہیں اور اگر موجود ہوں تو قبضہ کئے بغیر ان کو فروخت کیا جاتا ہے اس لیے شرعا ًاس ایپ میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ،نیز ظاہری نوعیت کے لحاظ سے یہ ایپ محض ایک فراڈ نظر آرہا ہے اس لئے بہرحال اس سے اجتناب ضروری ہے ۔
وشرط المعقود عليه ستة كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وكون الملك البائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم۔ (رد المحتار،كتاب البيوع،ج4،ص505)
ومنها وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة وهذا بيع ما ليس عنده. (بدائع الصنائع،ج:5،ص:146)