بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر لفظ طلاق کہنا


سوال

زیدنے20دن پہلے اخبارمیں لفظ طلاق پڑھا تھا اس وقت زید نے بیوی کی طرف نسبت نہیں کی محض لفظ طلاق پرتلفظ کیاتھااب 20دن بعد طلاق کی  نیت کی تاہم   بیوی کی طرف نسبت نہیں کی تو کیا20دن بعد محض نیت کرنے سےنکاح پر کوئی اثرپڑےگا یا نہیں؟

جواب

طلاق واقع ہونےکے لیے یہ ضروری ہے کہ شوہر طلاق کی نسبت بیوی کی طرف کرے، اگر بیوی کی طرف نسبت نہ کی ہو نہ صراحۃ ،نہ اشارۃاورنہ دلالۃ تو شرعا طلاق واقع نہیں ہوتی ۔

صورت مسئولہ میں زید نے اگر پہلے لفظ طلا ق بولا تھا اور بیوی کی طرف نسبت نہیں کیا تھا اور پھر بعد میں اس نے صرف طلاق کی نیت کی اورالفاظ منہ سے نہیں نکالے  تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 

ولكن لا بد في وقوعه قضاءً وديانةً من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها.(ردالمحتار،كتاب الطلاق،ج:3،ص:250)


فتویٰ نمبر : 6851/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور