بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دو تو لہ سونا اور ستر ہزار نقدرقم پر زکوۃ کا حکم


سوال

اگر کسی عورت کے پاس سال کے آخر میں دو تولہ سونا اور ستر ہزار روپےنقد موجود ہو ں تو کیا اس پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ نصاب کامل ہو یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کی برابر نقد رقم  یا سامان تجارت ہو ۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو  بلکہ کچھ سونا ہو، کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہو تو اس صورت میں ان کو اجزاء کے اعتبار سے ملا کر دیکھا جائے گا اگر ملانے سے نصاب کامل ہو جائے تو زکوۃ واجب ہوگی ورنہ نہیں۔

 صورت مسئولہ کی مطابق اگر کسی عورت کے پاس  دو  تولہ سونا ہوتو صاحب نصاب بننے کے لیےاس کے پاس  ساڑھےاڑتیس  تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا ہونا ضروری ہے،    لہذا اگردو تولہ سونا کے ساتھ صرف  ستر ہزار نقد رقم ہو، اس کے علاوہ کوئی سونا، چاندی، نقدی اور سامان تجارت نہ ہو،تو  چونکہ آج کل (نومبر،2023)  ستر ہزار  روپےساڑھے اڑتیس  تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہیں اس لیے اس عورت پر زکوۃ واجب نہیں۔

 

ومنها: كون المال نصابا فلا تجب في أقل منه.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الاول: في تفسيرها، وصفتها، وشرائطها، ج:1، ص: 133)

‌ثم ‌اختلفوا ‌في ‌كيفية ‌الضم، ‌فقال ‌أبو ‌حنيفة  ‌رحمه ‌الله ‌تعالى: ‌يضم ‌أحدهما ‌إلى ‌الآخر ‌باعتبار ‌القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد باعتبار الأجزاء وهو إحدى الروايتين عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى. (كتاب المبسوط، كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 193)


فتویٰ نمبر : 9879/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور