بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کو بہن کہنے سے ظہار کا حکم


سوال

سالہ نے اپنے داماد  سے بحث مباحثہ کے دوران یہ کہا کہ اگر میں آئندہ اس گھر میں داخل ہوا  تو میری  بیوی مجھ پر بہن  ہوگی؟

جواب

واضح رہے اگر کوئی اپنی بیوی کوبغیر حرف تشبیہ کے "بہن یا ماں "کہے تو اس سے  ظہار واقع نہیں ہوتا،البتہ مکروہ ہے مگر عرف میں اور علاقائی میں اگر لوگ بیوی کو "ماں،بہن"کہہ کرطلاق مراد لیتے ہوں  تو طلاق کے حکم  میں ہوکر اس سے طلاق بائن واقع ہوگی۔

صورت مسئولہ  میں مذکورہ الفاظ"اگر میں آئندہ  اس گھر میں داخل ہوا  تو میری بیوی مجھ پر بہن ہوگی"ظہار کے الفاظ نہیں،تاہم اگر علاقائی سطح پر عرف میں بیوی کو بہن  کہنا طلاق کے مترادف ہواور لوگ ان الفاظ سے طلاق مراد لیتے ہوں  تو پھر یہ الفاظ کہنے والا جب اس گھر میں داخل ہوگاتو طلاق بائن واقع ہوگی۔ اور اگر عرف میں یہ طلاق نہ ہو تو  پھر ایسے الفاظ کہنا مکروہ ہے ،لیکن اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔                  

 

قال العلماء: لا بد في الظهار من التشبيه ‌وإذا ‌قال: ‌أنت ‌أمي لا يكون ظهارا بل لغوا، أقول: لا بد من أن يكون طلاقا بائنا عند النية وقد روي عن أبي يوسف كما في العمدة. (العرف الشذي شرح سنن الترمذي،ابواب الطلاق والظهار،باب ماجاء فى كفارة الظهار،ج:1،ص:357) 

لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها ومثله أن يقول: يا ابنتي ويا أختي.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب التاسع فى الظهار،ج:1،ص:507)


فتویٰ نمبر : 6825/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور