بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
شادی بیاہ میں باندھی جانے والی پگڑی کی حیثیت
سوال
شادی بیاہ میں جو پگڑی باندھی جاتی ہے کیا یہ سنت کے مطابق ہوتی ہے اور اس سے سنت ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟
جواب
رسم و رواج کا تعلق جب خوشی کے مواقع سے ہو تو اس میں عام طور پر مذہبی جذبہ اور لزوم نہیں ہوتا،جب کہ غمی کے موقعوں کے رسوم و رواج مذہبی جذبہ، کسی خاص پس منظریا کسی روایت اور واقعہ کی بنیاد پر ادا کیے جاتے ہیں،چنانچہ اسی وجہ سے غمی کے رسوم بدعت کے قبیل میں شمار کیے جاتے ہیں تاہم خوشی کے رسم و رواج کو بالذات مباح قرار دیا جا سکتا ہےجب تک اس سے کوئی شرعی حکم متاثر نہ ہوتا ہو۔
صورت مسؤلہ کے مطابق شادی بیاہ کی تقریبات میں پگڑی رواج کے طور پر باندھی جاتی ہے اور اس سے کوئی شرعی حکم بھی متاثر نہیں ہوتا اس لیے اس کا باندھنا جائزہے تاہم اس سے سنت کا ثواب ملنےمیں نیت کو دخل ہوتا ہے، لہذا اگرثواب کی نيت كے بغير محض علاقائی رواج اور رسم کی بنا پر باندھی جائےتو اس پر سنت کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس سے سنت کا ثواب مل سکتا ہے البتہ اگر اس کو سنت کی نیت سے باندھا جائے تو اس سے سنت کا ثواب بھی ملےگا۔
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:((إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها، أو إلى امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه)) (صحيح البخاری،باب کيف کان بدؤالوحی الی رسول اللهﷺ ۔ ج:1،ص:2)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن الله لا ينظر إلى صوركم وأموالكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم، وأعمالكم .» ( صحيح مسلم، كتاب البر ، باب تحريم ظلم المسلم و خذله و احتقاره و دمه و عرضه و ماله۔ ج:2،ص:317)
قلت: اللهو في النكاح وإن كان لغوا لكنه يغمض عنه، بخلاف الرسوم في الموت۔ (فيض الباري على صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب البناء بالنهار بغير مركب ولا نيران، ج:4، ص:297، مكتبه حقانية پشاور)