بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
پانچ بیٹو ں اور ایک بیٹی میں تقسیم میراث
سوال
(1) ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں ہمارے والد کی ملکیت میں بارہ ایکڑ زرعی زمین اور پندرہ مرلےکا ایک رہائشی پلاٹ لاہور میں ،گاؤں میں رہائش کا گھر آلات زرعی اور زرعی مشینری موجود تھی ، ہمارے درمیان وراثت کی شرعی تقسیم کیسے ہو گی ؟
جواب
میـــــــــــــــــ(11)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
2 2 2 2 2 1
(1)اگرمرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی قریبی زندہ وارث موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ 11حصوں میں تقسیم ہوکرہر ایک بیٹے کو2/11حصے جب کہ بیٹی کو1/11حصہ دیا جائے گا۔
قال الله تعالی: یُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ .(النساء :11)