بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
نصاب کے بقدر مالیت پر زکوٰۃ کا حکم
سوال
میری ملکیت میں اکثر چاندی کےنصاب کے بقدر پیسے ہوتے ہیں۔ تو اس میں زکاۃ اور قربانی کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے جس شخص کی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال موجود ہو اور اس پر سال گزرجائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے۔
لہذاصورت مسؤلہ میں اگر سائل کی ملکیت میں چاندی کے نصاب کے بقدر مالیت ابتدا سال اور انتہا سال میں موجود ہواگرچہ درمیان سال میں نصاب مکمل نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ نیز قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب پر سال کا گزرنا شرط نہیں ہے،بلکہ دسویں ذوالحجہ کو دن کی ابتداسے بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے تک اگر کوئی نصاب کا مالک ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔
ولكن هذا الشرط يعتبر في أول الحول وفي آخره لا في خلاله حتى لو انتقص النصاب في أثناء الحول ثم كمل في آخره تجب الزكاة سواء.(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة،فصل في الشرائط التي ترجع إلى المال، ج:2، ص:404)
"شروط وجوبها الإسلام والبلوغ والعقل والحرية وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحاجته الأصلية نام ولو تقديرا، شروط وجوب أدائها حولان الحول القمري على النصاب الأصلي بحيث يوجد في طرفي الحول، ولونقص في وسطه".(نور الإيضاح: كتاب الزكاة، شروط وجوبها،ص: 120)
فمتٰی فضل نصاب تلزمه ولو العقار وقفا،فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الأضحية، ج:6،ص:312)
أن الأضحية لهاوقت مقدر کالصلوۃ والصوم والعبرۃ للوجوب في آخرہٖ من کان غنیا آخرہ تلزمه.‘‘ .(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الأضحية، ج:6،ص:315)