بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بچے کا ماں سے گر کرمر جانے کی صورت میں کفارہ


سوال

 ایک عورت کی تقریباً 7 ماہ کی بیٹی تھی ایک مرتبہ وہ عورت ایک گھر سے دیوار پر سے دوسرے گھر جارہی تھی تو اس کی گود سےاس کی بیٹی نیچے گر گئی اور وفات پاگئی تو کیا اس عورت پر کفارہ کے روزے واجب ہیں یا نہیں ؟

جواب

بچہ کا ماں سے گرکر مرجانا جاری مجریٰ خطا کے زمرے میں شمار ہوتا ہے جس میں قاتل اگر چہ گناہ گار نہیں ہے، تاہم اس پر دیت اور کفارہ لازم ہوتاہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بچہ ماں سے گر کر  مرگیا ہو تو ماں پر کفارہ لازم ہے جو کہ مسلسل دو مہینے روزے رکھنا ہے،تاہم درمیان میں حیض اس تسلسل میں مخل متصور نہیں ہوگا، جب کہ آج کل  عاقلہ سے دیت وصول  کرنے كى عملا كوئی صورت نہیں ہے۔

 

"(و) الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله) قال ابن عابدين تحت قوله (ما جرى مجراه إلخ) فحكمه حكم الخطأ في الشرع" (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الجنايات، ج:10، ص:161)

"(وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن فإن عجز عنه صام شهرين ولاء ولا إطعام فيهما) (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الجنايات، ج:10، ص:131)


فتویٰ نمبر : 5658/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور