بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

"اب آپ آزاد ہو" کے الفاظ متعدد بار کہنا


سوال

ایک شخص کی بیوی بات بات پر اپنے شوہر سے ناراض ہوتی،جب شوہر تنگ آجاتا تو اس کو سیدھا کرنے کے لیے باتکلف ناراض ہوجاتا اور اپنی بیوی سے بسترا علیحدہ کرلیتا،اور باتیں بھی ترک کرلیتا،جب بیوی شوہر کو منوانے آتی ہے ،تو شوہر کہتا ہے اب اپ آزاد ہو ،مجھ کو معاف کردو،اب آپ اپنی مرضی کرتی رہو تجھے کوئی بھی نہیں روکے گا۔بیوی  شوہر کو منوانے پر اصرار کرتی ،لیکن شوہر بار بار یہ جملہ کہتا بس اب  آپ آزاد ہو اور میں بھی آزاد ہوں،تم اپنی مرضی پر چلنا ،میں اپنی مرضی پر ۔اسی طرح شوہر نے باتوں باتوں میں یہ بھی کہا کہ اگر میں پسند نہیں ہوں تو پھر (زہ اجازت درکوم بل میڑہ کہ کوے)میں اپ کو اجازت دیتا ہوں کہ دوسرے شخص سے شادی کرلو۔ان سب باتوں  کے دوران اور نہ اس سے پہلے اور نہ بعد میں شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی اور نہ ہی اس کے وہم خیال میں یہ بات تھی،صرف بیوی کو ڈرانے کے لیے یہ سب کچھ کہا تھا۔ان سب باتوں کے بعد بیوی ناراض ہوکر میکے چلی گئی جو دو ،تین ماہ بعد واپس لائی گئی ،بعد میں ان کو پتہ چلا کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہےتو آیا ان الفاظ سے کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ اگر کوئی لفظ طلاق کے لیے کنائی ہو، لیکن کسی عرف میں اس کا استعمال طلاق کے لیے اس کثرت سے استعمال ہونے لگے کہ اس لفظ سے طلاق ہی کی طرف ذہن جاتا ہوتو اس لفظ کو صریح کا درجہ حاصل ہوگا، لہذا ایسے لفظ کے استعمال کرنے سے طلاق واقع ہوجائے گی، خواہ طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔"آزاد ہو"کے الفاظ اگر چہ کنائی  ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیےاس کو طلاق صریح میں شمار کیا جاتا ہےاور نیت  کےبغیر بھی اس سے طلاق واقع ہوتی ہے۔

              صورت مسئولہ کے مطابق   اگر واقعی شوہر نے مذکورہ الفاظ کہ "اب آپ آزاد ہو مجھ کو معاف کردو" اور "اب آپ آزاد ہو اور میں بھی آزاد ہوں " کو دو مرتبہ سے زائد کہا ہو تو ایسی صورت میں عورت مطلقہ مغلظہ ہوکر شوہر پر حرام ہوچکی ہے، لیکن اگر دو مرتبہ کہے ہوں تو ایسی صورت میں دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں اور شوہر کو ایک طلاق کا اختیار باقی رہ چکا ہے۔

 

فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق، باب الكنايات،ج:3،ص:299)

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية.قال ابن عابدين رحمه الله: (قوله ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:2،ص:247)

إن ‌الصريح ‌ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:2،ص:252)

‌وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السادس،ج:1،ص:473)

وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السادس،ج:1،ص:470)


فتویٰ نمبر : 6811/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور