بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
اپنا حق وصول کرنا
سوال
ایک شخص نے بینک سے ایک لاکھ قرض لیا اور اس میں ایک ہزار جعلی نکلا ،بینک نے واپس نہیں لیا بعد میں دوبارہ کاروبار کے لیے قرض لیا جو کہ دو لاکھ تھااس میں ایک ہزار اضافی نکلا ، ب یہ شخص اس پہلے والے ایک ہزار جعلی کے بدلے اس اضافی ایک ہزار کو رکھ سکتا ہے کہ نہیں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے اگر کسی کا دوسرے کے ذمے کوئی حق ہو اور وہ دینے سے انکار کرے تو اس کے لیے اس کے مال میں سے اپنے حق کے بقدر لینے کی گنجائش ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی کو بینک کی طرف سے ایک ہزار کا جعلی نوٹ ملا ہو تو اس کو چاہیے کہ بینک کو اس سے خبردار کرے،اگر بینک والے نوٹ تبدیل کرنے سے انکار کریں اور پھر کسی دوسرے موقع پر اس نے بینک سے قرض لیا اور اس دفعہ مطلوبہ رقم سے ایک ہزار اضافی رقم نکلی تو اس صورت میں گزشتہ ایک ہزار جعلی کے بدلے اس کے لینے کی گنجائش ہے۔
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لصاحب الحق: «خذ حقك في عفاف واف، أو غير واف»(سنن ابن ماجه،ج:2،ص:409)
مطلب في أخذ الدائن من مال مديونه من خلاف جنسه (قوله ومثل دينه) أي مثله جنسا لا قدرا ولا صفة كما أفاده ما بعده (قوله ولو دينه مؤجلا) ؛ لأنه استيفاء لحقه۔۔۔ومفاده أنه ليس للدائن أخذ الدراهم بدل الدنانير بلا إذن المديون ولا فعل حاكم، وقد صرح في شرح تلخيص الجامع في باب اليمين في المساومة بأن له الأخذ وكذا في حظر المجتبى، ولعله محمول على ما إذا لم يمكنه الرفع للحاكم، فإذا ظفر بمال مديونه له الأخذ ديانة بل له الأخذ من خلاف الجنس ۔۔۔قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. ۔۔۔قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق۔(رد المحتار علی الدر المختار،ج:4،ص:94)