بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
حروف والےچپل پہننے کا حکم
سوال
شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہےکہ ہم جوچپل پہنتے ہیں ان پر کسی بھی زبان میں کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی چپل پہننا جائز ہے جس پرکچھ حروف ہوں؟
جواب
واضح رہے کہ توہین بنیادی طور پر ایک اعتقادی چیز ہے جس کا ظہور عملی میدان میں ہوتا ہے،لہذا اگر کسی چپل وغیرہ پر لکھے گئے حروف صراحتا توہین آمیز ہوں یا ان سےکسی شعائراللہ وغیرہ کی بے ادبی کا اندیشہ ہوتو ایسی چپل کااستعمال کرنا جائز نہیں،لیکن اگر اس میں توہین کا کوئی پہلو نہ ہوتو پھر اس کا پہننا جا ئز ہےتاہم عربی زبان کے حروف تہجی زیادہ قا بل احترام ہیں اس لیے ان حروف کو ایسی جگہ لکھنا جس سے ان کی بے ادبی کا اندیشہ ہو ، کراہت سے خالی نہیں ۔
إذا كتب اسم فرعون أو كتب أبو جهل على غرض يكره أن يرموا إليه؛ لأن لتلك الحروف حرمة، كذا في السراجية (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد... ج:5، ص374، دارالفكر)
قلت: لكن نقلوا عندنا أن للحروف حرمة ولو مقطعة (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:552، دارالكتب العلمية)
ويكره أن يجعل شيئا في كاغذة فيها اسم الله تعالى كانت الكتابة على ظاهرها أو باطنها (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد.ج:5، ص322، دارالفكر)